اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئے صوبوں کے قیام جیسے سیاسی طور پر حساس معاملے کو اکتوبر میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث کے لیے لانے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے آئندہ اجلاسوں میں اس موضوع پر باضابطہ بحث ہوگی، تاہم اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
وزیر پارلیمانی امور نے واضح کیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اپنی موجودہ آئینی حیثیت کے مطابق وفاقی علاقہ ہی رہے گا۔ ان کے مطابق حکومت دارالحکومت کے لیے ایک نئے گورننس ماڈل پر کام کر رہی ہے، لیکن اسے صوبائی اکائی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ نہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں کا سوال طویل عرصے سے سیاسی جماعتوں، علاقائی گروہوں اور پارلیمانی حلقوں میں زیر بحث رہا ہے۔ مختلف ادوار میں جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دیگر انتظامی یا جغرافیائی بنیادوں پر نئی اکائیوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن کسی نئے صوبے کے قیام کے لیے آئینی ترمیم اور وسیع سیاسی اتفاق رائے درکار ہوتا ہے۔
حکومت کی جانب سے اکتوبر میں بحث کا اعلان اس معاملے کو فوری قانون سازی کے بجائے پارلیمانی مشاورت کے مرحلے میں لے جاتا ہے۔ دستیاب بیان میں کسی مخصوص نئے صوبے کی حتمی تجویز، حدود، نام یا انتظامی ڈھانچے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے بحث کے نتائج اور سیاسی جماعتوں کے مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی آئندہ سمت واضح ہوگی۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ ستمبر میں قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اجلاس شیڈول نہیں، اس لیے موضوع اکتوبر کے اجلاسوں میں اٹھایا جائے گا۔ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے میں آبادی، وسائل کی تقسیم، انتظامی کارکردگی، صوبائی اسمبلیوں کی رائے اور آئینی تقاضے بنیادی سوالات ہوں گے۔
پارلیمانی بحث سے یہ بھی واضح ہونے کی توقع ہے کہ حکومت محض اصولی مشاورت چاہتی ہے یا کسی مخصوص آئینی پیکیج کی تیاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت صرف اتنی ہے کہ معاملہ اکتوبر میں دونوں ایوانوں کے سامنے بحث کے لیے لایا جائے گا۔




