اسلام آباد: وفاقی حکومت کی پیٹرولیم پرائسنگ کمیٹی نے پیٹرول کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے مرحلہ وار آزاد کرنے کے لیے جون 2027 کو ممکنہ ہدف مقرر کیا ہے۔ وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ سفارش کمیٹی کے ساتویں اجلاس میں سامنے آئی، جس کی صدارت وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کی۔ کمیٹی کی حتمی رپورٹ وزیراعظم کو غور اور منظوری کے لیے پیش کی جائے گی، اس لیے جون 2027 کی تاریخ ابھی نافذ شدہ حتمی پالیسی نہیں بلکہ مجوزہ ہدف ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ مجوزہ تبدیلی کا مقصد پیٹرول کی قیمتوں کو بتدریج مسابقتی اور مارکیٹ کی بنیاد پر طے ہونے والے نظام کی طرف لے جانا ہے، جبکہ صارفین کو غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھنے کے انتظامات بھی برقرار رکھے جائیں گے۔ کمیٹی نے قیمتوں کے موجودہ ڈھانچے کو زیادہ شفاف، قابل پیش گوئی اور مؤثر بنانے کے لیے سفارشات کا ایک مجموعہ تیار کیا ہے۔
ڈی ریگولیشن کی صورت میں حکومت کی جانب سے ایک یکساں خوردہ قیمت کے تعین کا کردار کم ہو سکتا ہے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے درمیان قیمت اور سروس کی بنیاد پر مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق صارفین کو زیادہ بار قیمتوں میں تبدیلی اور مختلف کمپنیوں کے پمپوں پر ممکنہ طور پر مختلف نرخ دیکھنے پڑ سکتے ہیں۔ یہ ممکنہ اثرات ہیں؛ اصل نظام، قیمت بدلنے کی فریکوئنسی، کم سے کم ذخائر اور صارف تحفظ کے قواعد حتمی منظور شدہ پالیسی سے طے ہوں گے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کے بارے میں کمیٹی نے فوری مکمل ڈی ریگولیشن کے بجائے ہنگامی حالات میں قواعد پر مبنی مداخلت کے اصول منظور کیے۔ سرکاری بیان کے مطابق غیر معمولی قیمت جھٹکے کے لیے واضح محرکات اور ممکنہ اصلاحی اقدامات وضع کیے جائیں گے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کس شرح یا کس عالمی و مقامی صورتحال کو باضابطہ طور پر قیمت کا ہنگامی جھٹکا تصور کیا جائے گا۔ ڈان کے مطابق ڈیزل کی مکمل ڈی ریگولیشن پیٹرول کے بعد کے مرحلے میں زیر غور آ سکتی ہے۔
کمیٹی نے اِن لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، آئی ایف ای ایم، کے موجودہ نظام کا بھی جائزہ لیا اور اس کے حساب کا نظرثانی شدہ طریقہ اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔ آئی ایف ای ایم ملک کے مختلف حصوں تک ایندھن پہنچانے کی نقل و حمل کی لاگت کو قیمت کے ڈھانچے میں تقسیم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسی کے ذریعے مختلف علاقوں میں ڈپو سطح کے نرخوں کو نسبتاً یکساں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے آئی ایف ای ایم آڈٹ کو دسمبر 2026 کے اختتام تک مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو موجودہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی کارکردگی، ممکنہ انضمام یا استحکام، جدید ٹیکنالوجی اور بہترین کاروباری طریقوں سے متعلق تحریری سفارشات دینے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اس مرحلے پر کسی مخصوص کمپنی کے لائسنس، انضمام یا بازار سے اخراج کا فیصلہ جاری نہیں ہوا۔
پیٹرولیم قیمت استحکام فنڈ کے بارے میں ذیلی کمیٹی کی رپورٹ مختلف ملکوں کے کامیاب اور ناکام ماڈلز سے تقابل کے بعد دیکھی گئی۔ مرکزی کمیٹی نے مزید بہتری کی ہدایت دی، لیکن اس کا ابتدائی مشاہدہ یہ تھا کہ مکمل ڈی ریگولیشن کی سمت جاتے ہوئے الگ استحکام فنڈ قائم کرنے کے مقابلے میں مناسب مقدار میں ایندھن کے ذخائر برقرار رکھنا زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ اس ترجیح کی مالی لاگت، ذخائر کی لازمی مدت اور فنڈنگ کا طریقہ ابھی تفصیل سے جاری نہیں کیا گیا۔
نئے نظام کے ٹیکس پہلو بھی زیر غور آئیں گے۔ نعیم غوری کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سے مشاورت کرکے یہ دیکھنے کا کہا گیا ہے کہ بدلتی ہوئی مارکیٹ صورتحال میں پیٹرولیم ٹیکس کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ قیمت میں سرکاری محصولات، لیوی، کمپنی مارجن، نقل و حمل اور عالمی قیمت کے حصے الگ الگ اثر ڈالتے ہیں، اس لیے محض ڈی ریگولیشن سے صارف قیمت لازماً کم یا زیادہ ہونے کا پیشگی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اصلاحات سے مسابقت اور شفافیت بڑھے گی اور اچانک قیمت جھٹکوں سے تحفظ ملے گا۔ دوسری طرف مؤثر نفاذ کے لیے اوگرا کی نگرانی، ملک بھر میں قابل اعتماد سپلائی، دور دراز علاقوں میں قیمتوں کا تحفظ، آئل کمپنیوں کی مالی و عملی اہلیت اور ذخیرہ اندوزی یا ملی بھگت کے خلاف مضبوط قواعد ضروری ہوں گے۔
اگلا باضابطہ مرحلہ کمیٹی کی حتمی رپورٹ کا وزیراعظم کے سامنے پیش ہونا اور اس کی منظوری یا ترمیم ہے۔ اس کے بعد ہی جون 2027 کے ہدف، پیٹرول و ڈیزل کے الگ مراحل، قیمت کے فارمولے اور صارف تحفظ کے عملی ضوابط کو نافذ شدہ پالیسی سمجھا جا سکے گا۔




