اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 88 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 53 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق بدھ 21 اکتوبر سے ہوگا۔
تازہ نظرثانی کے بعد پٹرول کی نئی خوردہ قیمت 382 روپے 2 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 389 روپے 80 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ حکومت پٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔
یہ معمولی یومیہ اضافہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب عالمی تیل منڈی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور رسد سے متعلق خدشات کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ حکومت نے رواں سال عالمی قیمتوں میں تیز تبدیلی کے بعد ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا وقفہ کم کیا تھا تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ کی نقل و حرکت کو مقامی نرخوں میں زیادہ تیزی سے منتقل کیا جا سکے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اپریل کے اوائل میں 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچی تھی، جبکہ مارچ کے آغاز کے بعد علاقائی جنگ اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران پٹرول بھی 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک گیا تھا۔ موجودہ نرخ ان بلند سطحوں سے کم ہیں، لیکن صارفین اور ٹرانسپورٹ شعبے کے لیے ایندھن اب بھی سال کے آغاز کے مقابلے میں مہنگا ہے۔
حکومت نے مہنگے ایندھن اور مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی کے تناظر میں کفایت شعاری کے متعدد اقدامات بھی دوبارہ متعارف کرائے ہیں۔ ان میں بازاروں کے لیے رات 9 بجے تک بندش اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان پالیسیوں کا مقصد درآمدی ایندھن کی کھپت اور سرکاری اخراجات کو محدود کرنا بتایا گیا ہے۔
ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ہدفی ریلیف اسکیم کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس اسکیم کا مقصد بلند عالمی تیل قیمتوں کا بوجھ نسبتاً کم آمدنی والے صارفین پر کم کرنا بتایا گیا، جبکہ اپریل میں بھی سبسڈی پر مبنی ہدفی ریلیف اقدامات سامنے آئے تھے۔
تازہ قیمتوں میں اضافہ مقدار کے لحاظ سے محدود ہے، لیکن روزانہ قیمتوں کے نظام میں صارفین اور کاروباروں کے لیے نرخوں میں بار بار تبدیلی اہم بن گئی ہے۔ آئندہ قیمتوں کا رخ عالمی خام تیل، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور حکومت کے ٹیکس و لیوی فیصلوں سے متاثر ہوگا۔
