اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئی ٹیکس ایجنسی قائم کرنے کی تجویز سے پیچھے ہٹتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی موجودہ ساخت میں اصلاحات اور انسانی وسائل کی تنظیم نو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ٹیکس وصولیوں میں موجود فرق کم کرنے، ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور اصلاحاتی عمل کے عملی نتائج یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے۔

اجلاس سے متعلق سرکاری اور رپورٹ شدہ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے ٹیکنالوجی کے استعمال، پیشہ ورانہ تربیت، شفافیت اور احتساب کو اصلاحات کا بنیادی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر افسران کی کارکردگی قومی توقعات کے مطابق بہتر ہونی چاہیے اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی ایسے ملازمین کو بہتری کا موقع دینے کی بات کی گئی جو اپنی کارکردگی اور طرز عمل میں حقیقی اصلاح دکھائیں۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ جاری اصلاحات کے نتیجے میں تخمینہ شدہ ٹیکس گیپ مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس اہلکاروں کے صوابدیدی اختیارات میں بھی کمی آئی ہے۔ یہ اعداد حکام کی بریفنگ پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد اصلاحاتی پیش رفت کی پیمائش کرنا ہے۔

حکومت نے ایف بی آر کے انسانی وسائل کی عمودی اور افقی تنظیم نو پر بھی کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم کارکردگی دکھانے والے یا پیشہ ورانہ معیار پر پورا نہ اترنے والے افسران کے بارے میں قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کے لیے سول سرونٹس ایکٹ میں زیر التوا ترامیم کی پارلیمانی منظوری تیز کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ دفعات بعض تنظیم نو کے حالات میں عہدوں کو زائد قرار دینے، سیورنس پیکیج دینے اور متعلقہ ملازمین کی سروس ختم کرنے کا قانونی فریم ورک فراہم کر سکتی ہیں؛ تاہم یہ ترامیم قانون سازی کے عمل سے مشروط ہیں۔

وزیراعظم نے ایف بی آر کو انسانی وسائل کی تنظیم نو اور ادارہ جاتی ری آرگنائزیشن سے متعلق رپورٹ اسی ہفتے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس سے پہلے ایک بالکل نیا ٹیکس ادارہ بنانے کی تجویز زیر بحث آئی تھی، مگر حکومتی سطح پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ نیا ادارہ قائم کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ اسے بھی موجودہ نظام جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایف بی آر کے اندر حالیہ تناؤ کے پس منظر میں ان لینڈ ریونیو سروس افسران کی تنظیم نے قلم چھوڑ ہڑتال کی دھمکی دی تھی، جو بعد میں واپس لے لی گئی۔ ایف بی آر کے بیان کے مطابق ایک غیر مجاز پریس بیان اور کام روکنے کی کال کے معاملے پر دو افسران معطل اور دو کو ہیڈکوارٹر واپس بھیجا گیا تاکہ مزید جانچ کی جا سکے۔ یہ انتظامی اقدامات ہیں اور انہیں کسی حتمی تادیبی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

حکومت کا تازہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیکس نظام میں تبدیلی کے لیے نیا ادارہ بنانے کے بجائے موجودہ ایف بی آر کی ساخت، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کو تبدیل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ آئندہ مرحلے میں مجوزہ قانونی ترامیم، تنظیم نو کی رپورٹ اور ٹیکس گیپ میں عملی کمی اس اصلاحاتی پروگرام کی پیش رفت جانچنے کے اہم پیمانے ہوں گے۔