اسلام آباد: وفاقی حکومت نے چار ستمبر 2026 کے لیے پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 84 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں جمعہ کے لیے نافذ کی گئیں اور یہ روزانہ بنیاد پر قیمتوں کے تازہ نظام کے تحت جاری ہونے والی شرحیں ہیں۔
نظرثانی کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 346 روپے 16 پیسے سے بڑھ کر 349 روپے ہو گئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 372 روپے 3 پیسے سے بڑھا کر 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔ یوں دونوں بنیادی ایندھنوں میں اضافہ ہوا، لیکن مقدار الگ رہی اور نوٹیفکیشن نے اسے چار ستمبر کی قیمت کے طور پر بیان کیا۔
یہ تبدیلی پندرہ روزہ یا ہفتہ وار مقررہ دور کے بجائے روزانہ جائزے کے طریقۂ کار میں ہوئی ہے۔ حکومت نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی تیل منڈی میں تیزی سے بدلتی قیمتوں کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی شرحیں روزانہ جاری کی جائیں گی۔ پٹرولیم وزیر کے مطابق حساب کے لیے عالمی قیمتوں کی سات روزہ اوسط استعمال کی جاتی ہے، جبکہ اوگرا بھی روزانہ نرخ شائع کر رہا ہے۔
روزانہ نظام کا مطلب یہ ہے کہ چار ستمبر کی قیمت کو طویل مدت کے لیے مستقل شرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگلی سرکاری اطلاع میں بین الاقوامی قیمت، شرحِ مبادلہ، مال برداری، پریمیم، مقامی مارجن اور حکومتی محصولات سے متعلق حساب کے مطابق نئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ موجودہ نوٹیفکیشن صرف اس تاریخ کے لیے صارفین سے وصول کیے جانے والے نرخ کی تصدیق کرتا ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی صورت میں وصول کر رہی ہے۔ یہ رقم خام تیل یا تیار مصنوعات کی بنیادی قیمت سے الگ سرکاری محصولات کا حصہ ہے۔ حتمی پمپ قیمت میں عالمی لاگت کے ساتھ لیویز، کسٹمز، ڈیلر و مارکیٹنگ مارجن اور اندرونِ ملک ترسیل کے عناصر شامل ہوتے ہیں۔
ایک روز پہلے، تین ستمبر کے لیے بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 2 روپے 29 پیسے اور 1 روپیہ 11 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ مسلسل روزانہ تبدیلیاں اس نئے نظام کی نوعیت کو ظاہر کرتی ہیں، جس میں صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروبار کو مختصر وقفے میں مختلف نرخوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زراعت اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں وسیع استعمال ہوتا ہے، جبکہ پٹرول کا براہِ راست اثر موٹر سائیکلوں، کاروں اور شہری سفر پر پڑتا ہے۔ تاہم کسی ایک دن کے اضافے سے مجموعی مہنگائی پر حتمی اثر کا تعین الگ اعدادوشمار اور قیمتوں کے مسلسل رجحان سے ہوگا؛ اس خبر میں صرف سرکاری طور پر جاری شدہ نرخ اور تبدیلی رپورٹ کی گئی ہے۔
چار ستمبر کے لیے تصدیق شدہ صورتِ حال یہ ہے کہ پٹرول 349 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔ آئندہ نرخ کے لیے صارفین کو پٹرولیم ڈویژن یا اوگرا کی اگلی اطلاع دیکھنا ہوگی، کیونکہ موجودہ پالیسی میں قیمتوں کا جائزہ روزانہ لیا جا رہا ہے۔




