اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت روپے میں نامزد لیکن امریکی ڈالر میں طے ہونے والا بین الاقوامی بانڈ متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے منعقدہ ’موبلائزنگ پرائیویٹ کیپیٹل‘ مکالمے سے خطاب میں بتایا کہ متعلقہ مالیاتی اداروں کو اس مجوزہ آلے پر حکومت کے ساتھ کام کرنے کا مینڈیٹ دیا جا چکا ہے۔

مجوزہ بانڈ کی بنیادی ساخت یہ ہوگی کہ مالی ذمہ داری یا قدر پاکستانی روپے سے منسلک ہوگی، جبکہ سرمایہ کاروں کے ساتھ ادائیگی امریکی ڈالر میں طے ہوگی۔ تاہم حکومت نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ اصل رقم اور منافع کے حساب میں کون سی شرح مبادلہ استعمال ہوگی، کرنسی کے اتار چڑھاؤ کا خطرہ کس فریق پر ہوگا، بانڈ روایتی ہوگا یا کسی اسلامی ساخت میں، اور اسے کن منڈیوں یا سرمایہ کاروں کو پیش کیا جائے گا۔ ان تفصیلات کے بغیر اسے حتمی طور پر تیار یا جاری شدہ مالی آلہ نہیں کہا جا سکتا۔

وزیر خزانہ نے اس منصوبے کو سرکاری قرض کے ذرائع متنوع بنانے اور ملکی بینکنگ نظام پر حکومت کے زیادہ انحصار میں کمی کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق حکومت قرض کی سرمایہ منڈی کو گہرا کرنا اور انشورنس کمپنیوں، غیر بینکی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سمیت وسیع تر سرمایہ کار بنیاد تک رسائی چاہتی ہے۔ یہ حکومتی ہدف ہے؛ عملی نتیجہ بانڈ کی حتمی قیمت، طلب، مدت اور مجموعی لاگت سامنے آنے کے بعد ہی جانچا جا سکے گا۔

وزارت خزانہ نے جولائی 2026 میں عالمی بینکوں کے کنسورشیم منتخب کرتے وقت روپے میں نامزد اور ڈالر میں طے ہونے والے بانڈ کو اپنے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کا الگ حصہ قرار دیا تھا۔ اس آلے کے لیے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک اور ڈوئچے بینک کو تین سال کے لیے منتخب کیا گیا۔ وزارت نے اس وقت بھی کہا تھا کہ کسی اجرا کا وقت اور حجم ضروری دستاویزات، رسمی کارروائی، مالی ضرورت اور منڈی کے حالات پر منحصر ہوگا۔

تازہ اعلان پاکستان کے تین ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کے اجرا کے بعد سامنے آیا ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق 1.75 ارب ڈالر کا حصہ ساڑھے پانچ سال کے لیے 7.50 فیصد کوپن پر اور 1.25 ارب ڈالر کا حصہ دس سال کے لیے 7.90 فیصد کوپن پر جاری ہوا، جبکہ مجموعی آرڈر بک تقریباً چھ ارب ڈالر رہی۔ وزیر خزانہ نے یورو بانڈ، بین الاقوامی سکوک، پانڈا بانڈ اور روپے سے منسلک ڈالر سیٹلڈ آلے کو درمیانی مدت کی قرض حکمت عملی کے مختلف اجزا قرار دیا ہے۔

یورو بانڈ براہ راست ڈالر میں نامزد قرض ہے، جبکہ زیرِ غور نئے آلے میں روپے سے منسلک قدر اور ڈالر میں تصفیے کا امتزاج ہوگا۔ اس فرق کے باعث شرح مبادلہ، ہیجنگ اور قیمت کے تعین کی شرائط خاص اہمیت رکھیں گی۔ حکومت نے ابھی کسی پیشکش کی دستاویز، کریڈٹ ریٹنگ، متوقع کوپن، مدت یا زیادہ سے زیادہ رقم جاری نہیں کی، اس لیے ممکنہ مالی فائدے یا کرنسی خطرے کے بارے میں قطعی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ وزارت خزانہ موجودہ یورو بانڈ قرض کے بعض حصے کو ٹوکنائز کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے، جس کے لیے ہانگ کانگ کے تجربے کو دیکھا جا رہا ہے۔ یہ الگ زیرِ غور تجویز ہے اور اسے روپے میں نامزد ڈالر سیٹلڈ بانڈ کی منظور شدہ خصوصیت یا فوری اجرا نہیں سمجھا جا سکتا۔ ٹوکنائزیشن کے لیے قانونی، تکنیکی، تحویلی اور سرمایہ کار تحفظ کے ضابطے درکار ہوں گے، جن کی تفصیل ابھی جاری نہیں ہوئی۔

موجودہ پیش رفت کا مصدقہ دائرہ یہ ہے کہ حکومت نے مجوزہ بانڈ پر کام شروع کر رکھا ہے، منتخب عالمی اداروں کو مینڈیٹ دیا گیا ہے اور وزیر خزانہ نے اسے قرض کے ذرائع متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ بتایا ہے۔ اگلے قابلِ تصدیق مراحل میں پیشکش کی دستاویز، حجم، مدت، قیمت، شرح مبادلہ کا طریقہ اور اجرا کی باقاعدہ تاریخ شامل ہوں گے۔