اسلام آباد: وفاقی حکومت پاکستانی روپے میں نامزد مگر امریکی ڈالر میں طے ہونے والا خودمختار بانڈ جاری کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے 4 ستمبر 2026 کو ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیرِ اہتمام ’’موبلائزنگ پرائیویٹ کیپٹل: نیشنل اسٹریٹیجک ڈائیلاگ آن پی پیز اینڈ پرائیویٹائزیشن‘‘ سے خطاب میں کہا کہ مجوزہ مالیاتی آلے پر کام کے لیے متعلقہ ادارے پہلے ہی مقرر کیے جاچکے ہیں۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق منصوبے کا مقصد حکومتی قرض کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا، سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع کرنا اور ملکی بینکاری نظام پر انحصار کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری مالی ضرورت پوری کرنے کے لیے بینکوں پر مسلسل زیادہ انحصار پائیدار نہیں اور قرضی سرمایہ منڈی میں انشورنس کمپنیوں، غیر بینکی مالیاتی اداروں اور دوسرے سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانا ضروری ہے۔

حکومت نے مجوزہ بانڈ کا حجم، مدت، منافع یا کوپن کی شرح، اجرا کی متوقع تاریخ، فروخت کا دائرہ اور قیمت بندی کا طریقہ ظاہر نہیں کیا۔ اس لیے یہ اعلان بانڈ کی مکمل فروخت، سرمایہ وصول ہونے یا قرض کی حتمی شرائط طے ہونے کی تصدیق نہیں۔ اگلے مرحلے میں قانونی دستاویزات، مارکیٹ حالات، سرمایہ کاروں سے رابطہ، قیمت بندی اور حکومتی منظوریوں سمیت مزید کام درکار ہوگا۔

مالیاتی اصطلاح میں روپے میں نامزد مگر ڈالر میں سیٹل ہونے والا بانڈ عام طور پر ایسا آلہ ہوسکتا ہے جس کی واجبات یا قدر پاکستانی روپے کے حوالے سے مقرر ہو مگر سرمایہ کار کو ادائیگی امریکی ڈالر میں کی جائے۔ تاہم اصل زر، منافع، شرحِ مبادلہ کے تعین اور خطرے کی تقسیم کا درست طریقہ صرف حتمی پیشکش دستاویز سے معلوم ہوگا۔ موجودہ اعلان میں ان تکنیکی شرائط کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے کسی مخصوص ادائیگی فارمولے کو حتمی سمجھنا درست نہیں۔

وزارتِ خزانہ نے 21 جولائی کو بین الاقوامی بانڈ پروگراموں کے لیے بینکوں کے کنسورشیم مقرر کرتے وقت اس آلے کو بھی شامل کیا تھا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک این اے اور ڈوئچے بینک اے جی کو روپے میں نامزد اور ڈالر میں سیٹل ہونے والے بانڈز پر حکومت کے ساتھ کام کے لیے منتخب کیا گیا۔ یہ تقرری تین سال کے لیے ہے اور وزارت نے اسے ایک دفعہ کے اجرا کے بجائے خودمختار سرمایہ منڈی تک منظم اور بار بار رسائی کے وسیع فریم ورک کا حصہ قرار دیا تھا۔

تازہ اعلان پاکستان کی 3 ارب ڈالر کی دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ فروخت کے بعد سامنے آیا۔ اس الگ لین دین میں حکومت نے ساڑھے پانچ سالہ بانڈ کے ذریعے 1.75 ارب ڈالر اور دس سالہ بانڈ کے ذریعے 1.25 ارب ڈالر حاصل کیے۔ روپے سے منسلک مجوزہ آلہ اسی مکمل شدہ یورو بانڈ فروخت سے مختلف ہے؛ ایک معاملے میں رقم اور شرائط طے ہوچکی ہیں، جبکہ دوسرے میں حکومت نے صرف آئندہ اجرا کی تیاری اور مقرر اداروں کی موجودگی بتائی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے قرضی سرمایہ منڈی کو گہرا کرنے کے ساتھ عام سرمایہ کاروں کی سرکاری سکیورٹیز تک رسائی بڑھانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق وزارتِ خزانہ نے جاز کیش کے ساتھ تعاون کیا، جبکہ اسٹیٹ بینک نے افراد کے لیے حکومتی سکیورٹیز میں براہِ راست سرمایہ کاری کی ایپ متعارف کرائی۔ یہ اقدامات مجوزہ بین الاقوامی بانڈ کی حتمی ساخت کا حصہ نہیں بتائے گئے، بلکہ سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع کرنے کی مجموعی پالیسی کے تناظر میں پیش کیے گئے۔

روپے سے منسلک بیرونی بانڈ حکومت کو سرمایہ کاروں کا نیا طبقہ فراہم کرسکتا ہے، مگر اس کی لاگت اور خطرات شرحِ مبادلہ، عالمی شرح سود، پاکستان کی خودمختار درجہ بندی اور حتمی معاہداتی شرائط سے طے ہوں گے۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے آلے کے اجرا کا ارادہ ظاہر کیا، تین بین الاقوامی بینک پہلے سے مقرر ہیں اور تفصیلی شرائط ابھی عوامی نہیں کی گئیں۔