اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان روپے میں نامزد مگر امریکی ڈالر میں تصفیہ ہونے والا خودمختار بانڈ جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے 4 ستمبر 2026 کو ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیرِ اہتمام نجی سرمایہ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور نجکاری سے متعلق قومی مکالمے سے خطاب میں بتایا کہ متعلقہ مالیاتی اداروں کو اس عمل پر حکومت کے ساتھ کام کرنے کی ذمہ داری دی جا چکی ہے۔
وزارت خزانہ نے جولائی میں بین الاقوامی بینکوں کے کنسورشیمز کا اعلان کرتے ہوئے اس مخصوص مالی آلے کے لیے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک این اے اور ڈوئچے بینک اے جی کو منتخب کیا تھا۔ کنسورشیم کی مدت تین سال رکھی گئی ہے اور اسے پاکستان کے خودمختار کیپٹل مارکیٹ اجرا میں معاونت کرنا ہے۔ بینکوں کی تقرری تیاری کا ادارہ جاتی مرحلہ ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بانڈ فروخت ہو چکا یا سرمایہ حکومت کو موصول ہوگیا ہے۔
مجوزہ ڈھانچے کو سرکاری دستاویزات میں PKR-denominated, USD-settled bond یا روپے سے منسلک، ڈالر میں تصفیہ ہونے والا بانڈ کہا گیا ہے۔ عمومی طور پر اس نام سے مراد ایسا آلہ ہے جس کی مالی قدر یا واپسی کی بنیاد پاکستانی روپے سے جڑی ہو، جبکہ ادائیگی کا تصفیہ امریکی ڈالر میں کیا جائے۔ تاہم شرحِ مبادلہ کے تعین، قیمت بندی، سود یا منافع، اصل زر کی واپسی اور ممکنہ کرنسی خطرے کی صحیح تقسیم صرف حتمی پیشکش دستاویز سے طے ہوگی؛ موجودہ اعلان میں یہ تفصیلات نہیں دی گئیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت قرض لینے کے ذرائع وسیع کرنا اور ملکی بینکاری نظام پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق بینکوں کے ساتھ ساتھ انشورنس کمپنیوں، غیر بینکاری مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو قرض منڈی میں لانا زیادہ متنوع سرمایہ کار بنیاد بنانے کے لیے اہم ہے۔ یہ پالیسی مقصد ہے؛ مجوزہ بانڈ کی اصل طلب اور قیمت صرف مارکیٹ میں پیش ہونے کے بعد معلوم ہوگی۔
تازہ منصوبہ پاکستان کی 3 ارب ڈالر کی دو حصوں والی یورو بانڈ فروخت کے بعد سامنے آیا ہے، مگر دونوں کو ایک ہی لین دین نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یورو بانڈ کی رقم، مدت اور کوپن شرح طے ہو چکی ہے، جبکہ روپے سے منسلک ڈالر سیٹلڈ بانڈ کے حجم، میچورٹی، اجرا کی تاریخ، متوقع منافع اور سرمایہ کاروں کی اہلیت کا اعلان نہیں ہوا۔ وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ ضروری دستاویزات اور رسمی کارروائی مکمل ہونے پر مختلف ڈھانچے ضرورت کے مطابق استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
یہ آلہ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی مقامی کرنسی سے منسلک مالی موقع فراہم کر سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ شرحِ مبادلہ، خودمختار قرض، شرحِ سود، قانونی دائرۂ اختیار اور مارکیٹ میں خرید و فروخت کے خطرات بھی اہم ہوں گے۔ حکومت یا کنسورشیم نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ کسی کرنسی اتار چڑھاؤ کا بوجھ کس فریق پر ہوگا، بانڈ کس مارکیٹ میں درج ہوگا یا کیا کسی قسم کی ضمانت یا ہیجنگ شامل ہوگی۔ ان امور پر قیاس کو حتمی شرط نہیں سمجھا جا سکتا۔
وزیر خزانہ نے قرض کیپٹل مارکیٹ کو گہرا کرنے، سرمایہ کاروں کی بنیاد بڑھانے اور نجی سرمائے کو متحرک کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ تاہم مجوزہ خودمختار بانڈ سے حاصل ہونے والی ممکنہ رقم کے مخصوص استعمال، مہنگے قرض کی پیشگی ادائیگی یا بجٹ فنانسنگ میں تقسیم کی تفصیل الگ قرض انتظام دستاویزات اور اجرا کے وقت سامنے آئے گی۔
اگلے قابلِ تصدیق مراحل میں قانونی و مالی دستاویزات کی تکمیل، کریڈٹ و مارکیٹ جائزہ، ممکنہ سرمایہ کاروں سے رابطہ، حجم و مدت کا تعین، قیمت رہنمائی اور حتمی اجرا شامل ہوں گے۔ جب تک یہ مراحل مکمل نہ ہوں، موجودہ پیش رفت کو منصوبہ، بینکنگ مینڈیٹ اور پالیسی اعلان سمجھا جائے گا، نہ کہ جاری شدہ یا مکمل فروخت شدہ بانڈ۔




