پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی قومی مہم کے تحت بچوں کو ویکسین پلانے کا عمل جاری ہے اور حساس علاقوں میں پولیو ٹیموں کے لیے سکیورٹی انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت ایسے اضلاع جہاں ماضی میں پولیو کارکنوں یا ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو خطرات لاحق رہے ہیں، وہاں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی منتقلی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بار بار قومی اور ذیلی قومی ویکسینیشن مہمات چلائی جاتی ہیں، جن میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔

مہم کی کامیابی صرف ویکسین کی دستیابی پر منحصر نہیں بلکہ ہر اہل بچے تک رسائی ضروری ہے۔ نقل مکانی کرنے والی آبادی، دور دراز علاقے، سکیورٹی خدشات اور بعض خاندانوں کی جانب سے ویکسین سے انکار پروگرام کے لیے چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ صحت حکام مذہبی رہنماؤں، مقامی عمائدین اور کمیونٹی کارکنوں کے ذریعے والدین کو ویکسین کی حفاظت اور ضرورت سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پولیو ٹیموں پر ماضی کے حملوں نے حفاظتی انتظامات کو مہم کا لازمی حصہ بنا دیا ہے۔ پولیس اہلکار ٹیموں کے ساتھ تعینات کیے جاتے ہیں، جبکہ بعض حساس مقامات پر راستوں اور مہم کے اوقات سے متعلق اضافی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ سکیورٹی تفصیلات کی حساسیت کے باعث تمام آپریشنل معلومات عوامی طور پر جاری نہیں کی جاتیں۔

پولیو کے خاتمے کے لیے مسلسل ویکسینیشن اور وائرس کی ماحولیاتی نگرانی دونوں اہم ہیں۔ کسی علاقے میں سیوریج نمونوں میں وائرس ملنے یا انسانی کیس سامنے آنے کے بعد اضافی مہمات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ موجودہ مہم کے حتمی کوریج اعداد و شمار اور کسی نئے کیس کی تصدیق نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور متعلقہ صحت حکام کے باضابطہ اعلانات سے کی جائے گی۔