اسلام آباد: پاکستان میں مالی غربت کی شرح 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی ہے، جس سے گزشتہ برسوں میں ہونے والی بہتری کا رجحان الٹ گیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزارت منصوبہ بندی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی تقریب میں تازہ اعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت غربت کی پیمائش کے موجودہ طریقۂ کار کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

وزیر منصوبہ بندی کے پیش کردہ اعداد کے مطابق مالی غربت 2013-14 میں 29.5 فیصد تھی، جو 2015-16 میں 24.3 فیصد اور 2018-19 میں 21.9 فیصد تک کم ہوئی، لیکن بعد کے برسوں میں دوبارہ بڑھ گئی۔ احسن اقبال نے اس تبدیلی کو سیاسی عدم استحکام، ترقیاتی پالیسیوں میں تعطل، معاشی بحران، کووڈ 19 وبا اور شدید سیلاب سمیت مختلف عوامل سے منسلک کیا۔ یہ وجوہات وزیر کے بیان کردہ تجزیے کی عکاسی کرتی ہیں اور غربت میں تبدیلی کے ہر جزو کا الگ مقداری اثر اس موقع پر جاری نہیں کیا گیا۔

حکومت آکسفورڈ کے ادارے کے ساتھ پاکستان کے کثیر جہتی غربت انڈیکس پر نظرثانی کا جائزہ لے گی۔ موجودہ انڈیکس صحت، تعلیم اور معیار زندگی سے متعلق محرومیوں کو ناپتا ہے، جبکہ مجوزہ بحث میں موسمیاتی جھٹکے، آبادی کا دباؤ، نوجوانوں کی محرومی، صنفی عدم مساوات، ڈیجیٹل اخراج، عدم تحفظ، ابتدائی بچپن کی نشوونما، غذائیت، بچوں کا پست قد اور ہجرت جیسے عوامل شامل ہیں۔ نئی تشخیص کے لیے پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈز میژرمنٹ سروے 2026-27 سے ڈیٹا استعمال کرنے کی توقع ہے۔

ایک اور تجویز قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی سطح پر غربت کا تخمینہ تیار کرنے کی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس 2023 کی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ وار تجزیہ تیار کرچکا ہے، تاہم حکومت نے ابھی اس کی عوامی اشاعت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ وزیر منصوبہ بندی نے اسے پہلے پائلٹ بنیادوں پر استعمال کرنے اور محروم علاقوں میں ترقیاتی سرمایہ کاری کی ترجیحات طے کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے وفاقی ترقیاتی اخراجات کے حجم پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کم معاشی نمو روزگار اور آمدن میں بہتری کی رفتار محدود کررہی ہے۔ 28.9 فیصد کا عدد مالی غربت کی پیمائش ہے؛ اسے کثیر جہتی غربت کے الگ انڈیکس کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔