پاکستان میں جولائی 2026 کے دوران بجلی کی مجموعی پیداوار 15 ہزار 122 گیگاواٹ آور رہی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 14 ہزار 123 گیگاواٹ آور سے 7 فیصد زیادہ ہے۔ جون 2026 میں پیداوار 13 ہزار 431 گیگاواٹ آور تھی، اس طرح ماہانہ بنیاد پر اضافہ 13 فیصد بنتا ہے۔ نیپرا اور عارف حبیب لمیٹڈ ریسرچ کے مرتب کردہ اعداد کے مطابق یہ جولائی کے لیے ریکارڈ کی دوسری بلند ترین پیداوار ہے، جس میں پن بجلی اور مقامی و درآمدی کوئلے کی پیداوار نے نمایاں کردار ادا کیا۔
پن بجلی 6 ہزار 19 گیگاواٹ آور کے ساتھ سب سے بڑا ذریعہ رہی اور اس کی سالانہ پیداوار 6 فیصد بڑھی۔ درآمدی کوئلے سے پیداوار تقریباً دوگنی ہو کر 2 ہزار 169 گیگاواٹ آور تک پہنچی، جبکہ گزشتہ جولائی میں یہ ایک ہزار 140 گیگاواٹ آور تھی۔ مقامی کوئلے سے ایک ہزار 650، جوہری ذرائع سے ایک ہزار 527، گیس سے 990، ہوا سے 682 اور شمسی ذرائع سے 106 گیگاواٹ آور بجلی پیدا ہوئی۔ آر ایل این جی سے پیداوار 33 فیصد کم ہو کر ایک ہزار 629 گیگاواٹ آور رہ گئی۔
پیداواری حصے میں پن بجلی کا تناسب 39.8 فیصد، درآمدی کوئلے کا 14.3 فیصد اور مقامی کوئلے کا 10.9 فیصد رہا۔ آر ایل این جی کا حصہ ایک سال پہلے کے 17.3 فیصد سے کم ہو کر 10.8 فیصد ہوگیا۔ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ مجموعی پیداوار میں اضافہ صرف طلب کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف ایندھن اور پلانٹس کے استعمال کے تناسب میں تبدیلی سے بھی جڑا ہے۔ پن بجلی کی زیادہ دستیابی ایندھن کی درآمد پر دباؤ کم کر سکتی ہے، مگر مہنگے حرارتی ذرائع کا استعمال مجموعی لاگت پر اثر ڈالتا ہے۔
اعداد کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی اوسط لاگت سالانہ بنیاد پر 38 فیصد بڑھ کر 10.75 روپے فی کلوواٹ آور ہوگئی، جبکہ جون میں یہ 8.99 روپے تھی۔ فرنس آئل سے پیداواری لاگت 50.08 روپے فی یونٹ اور آر ایل این جی کی لاگت 47.38 روپے فی یونٹ بتائی گئی۔ عالمی تیل کی بلند قیمت، اسپاٹ آر ایل این جی کارگو اور ایندھن کے مہنگے امتزاج نے لاگت بڑھانے میں حصہ ڈالا۔ اسی پس منظر میں تقسیم کار کمپنیوں نے جولائی کے لیے 2.52 روپے فی یونٹ مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ مانگی ہے، جو جون 2024 کے بعد سب سے بڑی مطلوبہ ایڈجسٹمنٹ ہے۔
پیداوار میں اضافہ بجلی کی دستیابی کے لیے مثبت اشارہ ہو سکتا ہے، لیکن صارف کے بل پر اثر کا فیصلہ صرف گیگاواٹ آور سے نہیں ہوتا۔ ایندھن کی قیمت، پیداواری کارکردگی، ترسیلی نقصانات، صلاحیتی ادائیگیاں اور ریگولیٹری منظوری بھی حتمی نرخ میں شامل ہوتی ہیں۔ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست ابھی ریگولیٹری عمل سے گزرے گی؛ مانگی گئی رقم کو حتمی منظور شدہ رقم نہیں سمجھنا چاہیے۔ آنے والے مہینوں میں اصل سوال یہ ہوگا کہ پن بجلی کے بڑے حصے اور کوئلے کی بڑھتی پیداوار کے باوجود لاگت کو کس حد تک قابو میں رکھا جاتا ہے اور بڑھتی پیداوار صارفین اور صنعت کے لیے قابل اعتماد فراہمی میں کتنی تبدیل ہوتی ہے۔




