وزارت خزانہ کے سالانہ قرض منصوبہ 2027 کے مطابق پاکستان کا مجموعی عوامی قرض جون 2026 کے اختتام پر 86.7 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جو جون 2022 میں 49.3 ٹریلین روپے تھا۔ ڈان کی 30 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق چار برس میں اس سطح میں تقریباً 76 فیصد اضافہ ہوا۔ وزارت خزانہ نے موجودہ مالی سال کے بجٹ خسارے کی فنانسنگ کے لیے 6.86 ٹریلین روپے خالص اضافی قرض لینے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔

سرکاری منصوبے کے مطابق مجموعی عوامی قرض میں 59.4 ٹریلین روپے مقامی قرض جبکہ 27.3 ٹریلین روپے کے مساوی بیرونی قرض شامل ہے۔ مالی سال 2027 کے لیے وفاقی مالی خسارہ تقریباً 7.02 ٹریلین روپے متوقع ہے۔ موجودہ قرضوں کی میچورٹیز کو شامل کرنے کے بعد حکومت کی مجموعی فنانسنگ ضرورت 28.647 ٹریلین روپے بنتی ہے، جسے وزارت خزانہ نے مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 20 فیصد کے برابر بتایا ہے۔

منصوبے میں خالص مقامی قرض کی ضرورت 6.046 ٹریلین روپے اور خالص بیرونی فنانسنگ تقریباً 813 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ مختصر مدت کے ٹریژری بلز پر انحصار کم کرنے اور نسبتاً طویل مدتی آلات کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کرے گی۔ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی خالص نئی اجرا کا ہدف 4.58 ٹریلین روپے بتایا گیا ہے، جبکہ نئی اجرا میں فکسڈ ریٹ آلات کا حصہ بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

سالانہ قرض منصوبے میں اجارہ سکوک اور بیع مؤجل کے ذریعے 3.785 ٹریلین روپے کی فنانسنگ کی گنجائش بھی شامل ہے، جبکہ مجموعی سالانہ سکوک اجرا تقریباً 6.6 ٹریلین روپے تک رکھنے کا ہدف بیان کیا گیا ہے۔ حکومت نے زیرو کوپن بانڈز، قرض کی بائیک بیک اور ایکسچینج کارروائیوں اور نیشنل سیونگز اسکیموں کی تنظیم نو کو بھی قرضی ڈھانچے کے انتظام کا حصہ بتایا ہے۔

بیرونی فنانسنگ کے لیے وزارت خزانہ نے کثیرالجہتی اداروں سے خالص 1.58 ارب ڈالر کی آمد کو اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں یورو بانڈ یا انٹرنیشنل سکوک کے ذریعے 2 ارب ڈالر سے زیادہ کے اجرا کا ہدف بھی رکھا گیا ہے، تاہم اسے مارکیٹ کی سازگار صورتحال سے مشروط کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق غیر مقیم پاکستانیوں کی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اور سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے 1.122 ٹریلین روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

قرض کا بڑھتا حجم خود بخود مالی بحران کی علامت نہیں ہوتا، لیکن اس کی پائیداری کا انحصار شرح سود، قرض کی مدت، حکومتی محصولات، معاشی نمو، زرمبادلہ کی دستیابی اور قرض کی ادائیگی کی مجموعی لاگت پر ہوتا ہے۔ سالانہ منصوبے میں مختصر مدت کے قرض کی جگہ طویل مدت اور فکسڈ ریٹ آلات بڑھانے کی حکمت عملی اسی خطرے کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کی گئی ہے۔