دوحہ: پاکستان اور قطر نے داخلی سلامتی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور قطر کے وزیر داخلہ شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ الثانی کے درمیان دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے بعد پاکستانی وزارت داخلہ نے اس پیش رفت کا اعلان کیا۔

وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق دونوں وزرا نے داخلی سلامتی میں تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، امن اور استحکام سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزارتوں نے باہمی تعاون اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کی توثیق کی۔

ملاقات کی جاری کردہ تفصیلات میں کسی نئے معاہدے، مخصوص مشترکہ آپریشن، مالی حجم یا عمل درآمد کے ٹائم ٹیبل کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو بنیادی طور پر سیاسی و ادارہ جاتی اتفاق اور تعاون بڑھانے کے عزم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مستقبل میں عملی اقدامات کی نوعیت دونوں حکومتوں یا متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے پر واضح ہوگی۔

یہ ملاقات محسن نقوی کی دوحہ میں آٹھویں گلوبل سکیورٹی فورم میں شرکت کے ایک روز بعد ہوئی۔ فورم سے خطاب میں انہوں نے علاقائی امن کے لیے پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارتی کوششوں کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں لیک لوسرن سمٹ کا حوالہ بھی دیا، جسے پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت میں سہولت دینے کی کوششوں کے تناظر میں پیش کیا۔

محسن نقوی نے قطر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کا مقصد مزید تنازع روکنا اور انسانی جانوں کو محفوظ بنانا ہے۔ یہ پاکستانی وزیر داخلہ کا بیان اور سفارتی مؤقف ہے۔ علاقائی تنازعات میں مختلف فریقوں کے اپنے مؤقف اور دعوے موجود ہو سکتے ہیں، اس لیے امن کوششوں کے نتائج کا تعین متعلقہ مذاکرات اور عملی پیش رفت سے ہوگا۔

پاکستان اور قطر کے درمیان سلامتی کے شعبے میں رابطے نئے نہیں ہیں۔ ڈان کے مطابق محسن نقوی نے جولائی میں بھی دوحہ میں شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ الثانی سے ملاقات کی تھی، جس میں سکیورٹی تعاون اور دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے طریقوں پر گفتگو ہوئی تھی۔ تازہ ملاقات اسی جاری رابطے کا تسلسل ہے، لیکن اس بار علاقائی کشیدگی اور امن و استحکام کا موضوع بھی نمایاں رہا۔

خلیجی خطے میں تیزی سے بدلتی سکیورٹی صورتحال کے باعث پاکستان کے لیے قطر سمیت علاقائی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ داخلی سلامتی میں تعاون کے ممکنہ شعبوں میں اداروں کے درمیان رابطہ، تربیت، جرائم کی روک تھام اور معلومات کے تبادلے جیسے موضوعات شامل ہو سکتے ہیں، تاہم وزارت داخلہ کے تازہ بیان نے مخصوص پروگراموں کی تفصیل نہیں دی۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ دونوں وزرا نے تعاون بڑھانے اور شراکت داری مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔