وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ سے اسلام آباد میں ملاقات میں پاکستان ریلوے کی اصلاحات، مالی پائیداری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
وزیر ریلوے کے مطابق ادارے میں خدمات کو زیادہ مؤثر، شفاف اور مسافر دوست بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ اصلاحاتی ایجنڈے میں گورننس، آپریشنل کارکردگی، ترقیاتی منصوبے اور آمدن بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔
پاکستان ریلوے کو طویل عرصے سے مالی خسارے، پرانے ٹریک و رولنگ اسٹاک، کم مال برداری حصے اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ حکومت مین لائن ون سمیت بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے اے ڈی بی اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کی مالی و تکنیکی شمولیت بڑھانا چاہتی ہے۔
ڈیجیٹل ٹکٹنگ، اثاثوں کی نگرانی، مال برداری مینجمنٹ اور ڈیٹا پر مبنی مینٹیننس جیسے نظام ریلوے کی کارکردگی بہتر کر سکتے ہیں، لیکن ان کے لیے قابل اعتماد آئی ٹی انفراسٹرکچر اور تربیت یافتہ افرادی قوت ضروری ہے۔
ملاقات میں کسی نئے مخصوص قرض یا منصوبے کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔ اے ڈی بی کی ممکنہ شمولیت منصوبوں کی فزیبلٹی، مالی ڈھانچے اور بینک کے منظوری کے عمل سے مشروط ہوگی۔ پاکستان ریلوے کے لیے اصل کامیابی مسافر خدمات، مال برداری، وقت کی پابندی، حفاظت اور آپریٹنگ خسارے میں قابل پیمائش بہتری سے ظاہر ہوگی۔




