اسلام آباد: وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کیلئے پانچ سال کی عمر کی حد ختم کرنے کی پالیسی کی باضابطہ وضاحت کر دی ہے۔ وزارت تجارت نے 30 اکتوبر کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھیجے گئے دفتر ی مراسلے میں کہا کہ وفاقی کابینہ کے منظور شدہ فیصلے کے مطابق یہ پابندی یکم جولائی 2026 سے ختم تصور کی جائے گی۔

یہ وضاحت ایف بی آر کی جانب سے 23 اکتوبر کو وزارت تجارت سے رہنمائی مانگنے کے بعد سامنے آئی۔ سوال یہ تھا کہ 30 جون 2026 کے بعد کمرشل بنیادوں پر درآمد کی جانے والی استعمال شدہ گاڑیوں کیلئے پانچ سال کی زیادہ سے زیادہ عمر کی شرط برقرار رہے گی یا نہیں۔ وزارت نے جواب میں کہا کہ متعلقہ کابینہ فیصلے کے تحت مقررہ تاریخ کے بعد عمر کی یہ حد ختم ہو گئی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کسٹمز ٹیرف کے متعلقہ عنوانات 8702، 8703، 8704 اور 8711 کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت اس شرط کے ساتھ تھی کہ گاڑی پانچ سال سے زیادہ پرانی نہ ہو۔ ان زمروں میں مختلف اقسام کی موٹر گاڑیاں شامل ہوتی ہیں۔ نئی وضاحت کے باوجود درآمد کنندگان کو دیگر نافذ درآمدی پالیسی شرائط، ماحولیاتی تقاضوں اور حفاظتی معیارات کی پابندی کرنا ہوگی۔

حکومت نے گزشتہ سال استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد ایک مرحلہ وار پالیسی کے تحت کھولی تھی۔ اس نظام میں اضافی 40 فیصد ڈیوٹی بھی شامل تھی، جسے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہر سال 10 فیصد پوائنٹس کم کرتے ہوئے مالی سال 2029-30 تک بتدریج گھٹایا جانا ہے۔ اس لیے عمر کی حد کا خاتمہ تمام محصولات یا ضابطوں کے خاتمے کے مترادف نہیں ہے۔

حالیہ مہینوں میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں نمایاں اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جس کے باعث مقامی آٹو اسمبلرز اور پرزہ ساز ادارے مسابقت، مقامی پیداوار اور روزگار پر ممکنہ اثرات سے متعلق تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب درآمدی کاروبار سے وابستہ حلقے پالیسی میں نرمی کو صارفین کیلئے انتخاب اور مارکیٹ میں مسابقت بڑھانے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

حکومت کی تازہ وضاحت سے کسٹمز اور درآمد کنندگان کیلئے ایک اہم ضابطہ جاتی ابہام دور ہوا ہے، لیکن عملی اثر کا انحصار ڈیوٹی کے مرحلہ وار ڈھانچے، پری شپمنٹ اور دیگر معائنہ شرائط، حفاظتی و ماحولیاتی معیار، شرح مبادلہ اور مقامی گاڑیوں کی قیمتوں پر ہوگا۔ درآمد کنندگان کو ہر گاڑی کیلئے باقی تمام قانونی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔