اسلام آباد: پاکستان اور روس نے 14 اکتوبر 2026 کو داخلی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے ملزمان کی حوالگی کے مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دینے اور منظم جرائم کی روک تھام اور معلومات کے تبادلے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ فیصلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر کولوکولتسیف کی اسلام آباد میں ملاقات کے دوران سامنے آئے۔

ڈان کے مطابق روسی وزیر داخلہ چار روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا کہ دونوں وزرا کی ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔ محسن نقوی نے منظم جرائم کے خلاف مجوزہ مفاہمتی یادداشت کو دوطرفہ تعاون میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ تاہم اس مرحلے پر اسے پہلے سے نافذ العمل معاہدہ نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ خبر میں معاہدوں کو حتمی شکل دینے اور آئندہ دستخط کرنے پر اتفاق کا ذکر ہے۔

مذاکرات میں مجرموں کے تبادلے سے متعلق انتظامات، پہلے سے موجود واپسی کے معاہدے پر جلد عمل درآمد اور انسداد منشیات کے اداروں کے درمیان رابطوں کو بڑھانے پر بھی بات ہوئی۔ پاکستانی اینٹی نارکوٹکس فورس اور متعلقہ روسی اداروں کے مابین تعاون کو وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ دونوں جانب سے یہ بھی طے ہوا کہ وزرائے داخلہ کے تحت کام کرنے والے گروپ ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کریں گے۔

دونوں ملکوں نے سائبر جرائم کی روک تھام کے سلسلے میں پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور روس کی پولیس اکیڈمی کے مابین تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یہ شعبہ اس لیے اہم ہے کہ سرحد پار جرائم، ڈیجیٹل شواہد اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کی بروقت ترسیل کے لیے باضابطہ طریقہ کار درکار ہوتا ہے۔ البتہ زیر بحث تجاویز کے نفاذ، قانونی دائرۂ کار یا عملی ٹائم لائن کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ملاقات میں پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کو روس بھیجنے اور سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے ویزے کے حصول میں سہولت دینے کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ ان موضوعات پر گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں حکومتیں سکیورٹی تعاون کے ساتھ عوامی اور اقتصادی روابط بھی بڑھانا چاہتی ہیں۔

سرکاری بیان میں مذکور تمام امور کو مذاکرات اور اصولی اتفاق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ معاہدوں کے متن، منظوری کے مراحل اور ان پر عمل درآمد کے بارے میں آئندہ سرکاری اعلانات ہی حتمی صورت حال واضح کریں گے۔