اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ روایتی تعلقات کو ایک وسیع اور اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ دی نیشن کی 26 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے شہزادہ منصور کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری وفد سے ملاقات کی۔ گفتگو کا مرکز سرمایہ کاری اور مختلف پیداواری شعبوں میں عملی تعاون کے امکانات تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی وفد نے زراعت، بندرگاہوں، شاہراہوں، ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، رئیل اسٹیٹ، توانائی، بجلی کی تقسیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں دلچسپی ظاہر کی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ وفد کے دورے کے نتیجے میں مفاہمتی یادداشتیں اور معاہدے سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ بیان ممکنہ تعاون کی سمت دکھاتا ہے، مگر دستیاب رپورٹ میں کسی منصوبے کی حتمی مالیت، سرمایہ منتقل ہونے یا پابند معاہدے پر دستخط ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

پاکستان اور سعودی عرب کے اقتصادی روابط میں تجارت، توانائی، افرادی قوت اور سرمایہ کاری پہلے سے شامل ہیں۔ موجودہ ملاقات میں زیر بحث شعبوں کی فہرست وسیع ہے، اس لیے ہر منصوبے کے لیے الگ تجارتی جانچ، ضابطہ جاتی منظوری، مالی بندوبست اور معاہداتی شرائط درکار ہوں گی۔ ہوائی اڈوں یا بجلی کی تقسیم کی آؤٹ سورسنگ جیسے معاملات میں متعلقہ اداروں اور حکومت کے آئندہ فیصلے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے اسٹریٹجک شراکت داری کی خواہش کو مکمل شدہ سرمایہ کاری کا اعلان سمجھنا درست نہیں۔ سعودی کاروباری وفد کی دلچسپی ابتدائی مذاکرات کو آگے بڑھا سکتی ہے، لیکن حتمی پیش رفت کا معیار دستخط شدہ دستاویز، منصوبے کی واضح ٹائم لائن، سرمایہ کاری کی مقدار اور عملی کام کا آغاز ہوگا۔ رپورٹ میں ان تفصیلات کا ابھی اعلان نہیں ہوا۔

اس ملاقات کے بعد اگر کسی مخصوص بندرگاہ، شاہراہ، توانائی منصوبے، زرعی منصوبے یا آئی ٹی شراکت داری کے لیے مفاہمتی یادداشت یا معاہدہ جاری ہوتا ہے تو اسے متعلقہ سرکاری دستاویز کے ساتھ الگ جانچنا ضروری ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر وفد کی ملاقات، زیر بحث شعبوں اور وزیراعظم کے بیان تک محدود ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک