بینکاک: وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور عالمی بینک گروپ میں پاکستان کے گورنر احد خان چیمہ نے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات میں ایم ایل ون ریلوے منصوبے اور قومی مصنوعی ذہانت و اقتصادی ترقی پروگرام کے لیے عالمی بینک کی مالی معاونت جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ملاقات عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر بینکاک میں ہوئی۔

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار، سرمایہ کاری پر مبنی نمو، پیداواری روزگار اور بہتر معیار زندگی میں کیسے تبدیل کیا جائے۔ گفتگو کو اجے بنگا کے فروری 2026 کے دورۂ پاکستان کے بعد جاری تعاون کا حصہ قرار دیا گیا۔

احد چیمہ نے عالمی بینک کی جانب سے منصوبوں کی تیاری کے اوسط وقت کو 19 ماہ سے کم کر کے نو ماہ کرنے اور مالی سال 2026 میں نجی سرمائے کی ریکارڈ 112 ارب ڈالر mobilization کا حوالہ دیا۔ انہوں نے پاکستان میں وزیر اعظم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے تحت اصلاحاتی عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نظامی رکاوٹیں دور کرنے اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر نے کہا کہ عالمی بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور پالیسی اصلاحات کو ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت، معدنیات و ویلیو ایڈیشن، بنیادی صحت، ہنر، زرعی ویلیو چین، توانائی اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں بڑے اثرات والے منصوبوں سے جوڑنا ضروری ہے۔ دونوں جانب سے عمل کو مزید سادہ بنانے اور ترقیاتی نتائج کی فراہمی تیز کرنے پر اتفاق کی اطلاع دی گئی۔

یہ ملاقات مالی تعاون کی درخواست اور پالیسی گفتگو کی سطح پر ہے؛ رپورٹ میں ایم ایل ون یا قومی اے آئی پروگرام کے لیے کسی نئی مخصوص رقم، قرض کی حتمی منظوری، شرح سود یا اجرا کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے منظور شدہ نئی فنانسنگ کے بجائے پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان جاری مذاکرات اور ترجیحات کی نشاندہی سمجھا جانا چاہیے۔