اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے رابطوں کا تسلسل برقرار رکھنے اور اقتصادی و عوامی تعاون کے نئے مواقع پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے چھ دہائیوں پر محیط سفارتی تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، کنیکٹیویٹی اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات زیر بحث آئے۔ دونوں جانب سے کاروبار سے کاروبار روابط اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ پاکستان اور سنگاپور اس سال اپنے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل کر رہے ہیں، جس کے تناظر میں موجودہ دورے کو دوطرفہ رابطوں کے اگلے مرحلے سے جوڑا جا رہا ہے۔

فریقین نے کثیرالجہتی فورمز پر تعاون اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھ پاکستان کی بڑھتی ہوئی شمولیت پر بھی گفتگو کی۔ اس تناظر میں سنگاپور کی آئندہ چیئرمین شپ کو خاص اہمیت دی گئی۔ پاکستان طویل عرصے سے آسیان کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی روابط بڑھانے کا خواہاں ہے، جبکہ سنگاپور خطے کا اہم تجارتی، مالیاتی اور نقل و حمل کا مرکز ہے۔

ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی خیالات کا تبادلہ ہوا۔ اسحاق ڈار نے تنازعات کے حل اور پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کو عملی اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

اسی دورے کے دوران پاکستان اور سنگاپور کے درمیان براہ راست فضائی روابط کی ممکنہ بحالی بھی زیر بحث آئی ہے، جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کا بھی پروگرام بتایا گیا۔ تاہم براہ راست پروازوں کے آغاز کی کوئی حتمی تاریخ اس مرحلے پر جاری نہیں کی گئی۔ موجودہ مذاکرات کا بنیادی نتیجہ اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو جاری رکھنے اور تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور انسانی مہارتوں کے شعبوں میں تعاون کے لیے سیاسی عزم کا اعادہ ہے۔