اسلام آباد: پاکستان میں سال 2026 کا چھٹا پولیو کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسداد پولیو کے مطابق متاثرہ بچہ سات سالہ لڑکا ہے اور اس کا تعلق تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی اے سے ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی 6 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو نے نئے کیس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ بچے کی ویکسینیشن کی تاریخ، مقامی وائرس کی گردش اور علاقے میں حفاظتی ٹیکوں کی رسائی کی صورت حال کیا رہی۔ کیس کی تصدیق کے بعد ہائی رسک علاقوں میں ویکسینیشن سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق بچوں تک رسائی بڑھانے کے لیے اضافی اقدامات زیر غور ہیں، جن میں زبانی پولیو ویکسین کے ساتھ بعض بڑی عمر کے بچوں کے لیے انجیکشن کے ذریعے ویکسینیشن اور معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد وائرس کی ممکنہ منتقلی کی زنجیر کو توڑنا اور ایسے بچوں کو تحفظ دینا ہے جو ماضی کی مہمات میں رہ گئے ہوں۔

پولیو کا ہر نیا کیس نگرانی کے نظام کے لیے اہم اشارہ ہوتا ہے کیونکہ ایک تصدیق شدہ مریض کے پیچھے ماحول یا آبادی میں وائرس کی وسیع تر گردش کا امکان بھی جانچا جاتا ہے۔ اسی لیے انسداد پولیو پروگرام عام طور پر متاثرہ علاقے اور اس کے گردونواح میں نمونوں، ویکسینیشن کوریج اور بچوں تک رسائی کے اعدادوشمار کا دوبارہ جائزہ لیتا ہے۔

رواں سال چھ کیسز کی تعداد اس مرحلے تک سرکاری طور پر رپورٹ شدہ کیسز کی نمائندگی کرتی ہے؛ مستقبل میں تعداد میں تبدیلی نئی تصدیقات پر منحصر ہوگی۔ کسی مخصوص فرد، خاندان یا مقامی عملے کو وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے دستیاب رپورٹ میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔

یہ رپورٹ ایکسپریس ٹریبیون کی 6 اکتوبر 2026 کی خبر میں قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو سے منسوب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ کیس کی طبی تصدیق، مقام اور عمر سے متعلق تفصیلات انہی سرکاری معلومات کے مطابق بیان کی گئی ہیں۔