کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرمبادلہ کے ہفتہ وار اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 2 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مرکزی بینک کے پاس موجود غیرملکی کرنسی کے ذخائر میں ایک کروڑ پچاس لاکھ امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر 21 ارب 45 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔ یہ تفصیلات 9 اکتوبر کو روزنامہ ڈان نے اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے حوالے سے شائع کیں۔

رپورٹ کے مطابق اسی مدت کے لیے ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 26 ارب 79 کروڑ 70 لاکھ ڈالر بتائے گئے۔ اس مجموعی رقم میں اسٹیٹ بینک کے علاوہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود 5 ارب 34 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے ذخائر بھی شامل ہیں۔ ان دو الگ اعدادوشمار میں فرق واضح رکھنا ضروری ہے کیونکہ مرکزی بینک کے ذخائر اور پورے بینکاری نظام کے مجموعی ذخائر ایک ہی پیمانہ نہیں ہیں۔

ہفتہ وار اضافے کی رقم ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر ہے، جبکہ 21 ارب 45 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر کی نئی مجموعی سطح ہے۔ اسی طرح 26 ارب 79 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کو صرف اسٹیٹ بینک کی ملکیت سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ اس میں تجارتی بینکوں کی رقم بھی شامل ہے۔ اعدادوشمار کی اس تقسیم سے قارئین کو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف خبروں میں پیش کیے جانے والے زرمبادلہ کے اعداد میں فرق کیوں دکھائی دے سکتا ہے۔

مرکزی بینک کی یہ ہفتہ وار رپورٹ مالیاتی صورتحال کا ایک مخصوص اشاریہ پیش کرتی ہے، تاہم اس کے صرف ایک ہفتے کے اعدادوشمار سے برآمدات، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، درآمدات یا مستقبل میں روپے کی قدر کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈان کی مذکورہ خبر میں ذخائر بڑھنے کی کسی مخصوص وجہ، مثلاً نئے قرضے کی وصولی یا برآمدی آمدنی، کو اس اضافے کا سبب قرار نہیں دیا گیا۔ اسی لیے اس خبر میں اضافے کی وجہ کے بارے میں کوئی غیرمصدقہ دعویٰ شامل نہیں کیا جا رہا۔

جاری کردہ اعداد میں ایک اور اہم زمانی فرق یہ ہے کہ ذخائر کی پیمائش 2 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کی ہے، جب کہ خبر 9 اکتوبر کو شائع ہوئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیش کردہ تمام اعداد 9 اکتوبر کے اختتام کی صورتحال ظاہر کرتے ہیں۔ آئندہ ہفتوں میں ذخائر بڑھنے یا کم ہونے کی حقیقی سمت جاننے کے لیے اسٹیٹ بینک کی مسلسل ہفتہ وار اشاعتوں کا تقابل کرنا ہوگا۔ فی الحال قابل تصدیق پیش رفت صرف اتنی ہے کہ زیرِ رپورٹ ہفتے میں مرکزی بینک کے ذخائر میں محدود اضافہ ریکارڈ ہوا اور تجارتی بینکوں سمیت ملکی مجموعی ذخائر مذکورہ سطح پر رہے۔