وفاقی پیٹرولیم قیمت کمیٹی نے پٹرول کی قیمتوں کو مرحلہ وار مسابقتی اور مارکیٹ پر مبنی نظام کی طرف منتقل کرنے کے لیے جون 2027 کا ممکنہ ہدف مقرر کیا ہے۔ تین ستمبر 2026 کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت کمیٹی کے ساتویں اجلاس میں موجودہ قیمت ساز طریقہ کار، صارفین کو اچانک اتار چڑھاؤ سے بچانے اور ایندھن کی رسد میں زیادہ مسابقت لانے کے لیے سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق کمیٹی نے پٹرول کے قیمت ساز فارمولے پر سفارشات دیکھیں اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈی ریگولیشن کی طرف منتقلی بتدریج ہونی چاہیے۔ جون 2027 کو ’’ممکنہ ہدف‘‘ کہا گیا ہے، حتمی نفاذ کی لازمی تاریخ نہیں۔ کمیٹی کی مکمل سفارشات وزیراعظم کو غور اور منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی، اس لیے موجودہ اجلاس کو فوری قانونی یا انتظامی نفاذ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

ڈی ریگولیشن کا عمومی مقصد یہ ہے کہ قیمتوں کا تعین سرکاری فارمولے اور مقررہ وقفے کے بجائے زیادہ مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے ہو۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ نظام میں قیمتیں زیادہ کثرت سے تبدیل ہوسکتی ہیں اور مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نرخ ایک دوسرے سے مختلف بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ ممکنہ اثر ہے؛ صارفین کے لیے حتمی قیمت، تبدیلی کا وقفہ اور کمپنیوں کی ذمہ داریاں ابھی منظور شدہ قواعد سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا معاملہ بعد کے مرحلے میں زیر غور لانے کی بات کی گئی ہے۔ فی الحال کمیٹی نے ہنگامی حالات میں قواعد پر مبنی مداخلت کے رہنما اصول منظور کیے، جن میں واضح قیمت جھٹکا محرکات اور ممکنہ اصلاحی اقدامات شامل ہوں گے۔ سرکاری اعلامیے نے ان محرکات کی عددی حد یا ہر صورت میں استعمال ہونے والے طریقہ کار کی تفصیل جاری نہیں کی۔

اجلاس میں ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، یعنی آئی ایف ای ایم، کے موجودہ نظام کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس کے حساب کے لیے نظرثانی شدہ طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا۔ آئی ایف ای ایم ملک کے مختلف حصوں تک ایندھن پہنچانے کی لاگت کو قیمت میں شامل کرکے ڈپو کی سطح پر یکساں نرخ برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اوگرا نے یقین دہانی کرائی کہ مالی سال 2025-26 کا آئی ایف ای ایم آڈٹ دسمبر 2026 کے اختتام تک مکمل کردیا جائے گا۔

کمیٹی نے اوگرا کو موجودہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی کارکردگی، ممکنہ استحکام اور جدید ٹیکنالوجی و بہترین عملی طریقوں کے استعمال سے متعلق تحریری سفارشات جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ یہ جائزہ لینے کا فیصلہ ہوا کہ بدلتی ہوئی مارکیٹ کے تناظر میں ٹیکس نظام میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ کسی نئے ٹیکس، لیوی یا شرح کا اعلان نہیں کیا گیا۔

قیمت استحکام فنڈ سے متعلق ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹس بھی زیر غور آئیں۔ سرکاری بیان کے مطابق مختلف ممالک کے کامیاب اور ناکام ماڈلز کے تقابل کے بعد یہ رائے سامنے آئی کہ مکمل ڈی ریگولیشن کی سمت میں مناسب ایندھن ذخائر برقرار رکھنا ممکنہ طور پر الگ استحکام فنڈ قائم کرنے سے زیادہ موزوں ہوسکتا ہے۔ ذیلی گروپ کو اپنی تجاویز مزید بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی، اس لیے فنڈ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ اصلاحات قیمتوں میں شفافیت اور پیش گوئی کی صلاحیت بہتر کریں گی، مارکیٹ کی کارکردگی بڑھائیں گی اور صارفین کو اچانک تبدیلی سے بچائیں گی۔ یہ پالیسی مقاصد ہیں؛ عملی نتیجہ مسابقت کے معیار، ذخائر کی دستیابی، اوگرا کی نگرانی، عالمی تیل کی قیمتوں، شرح مبادلہ اور منظور شدہ صارف حفاظتی قواعد سے طے ہوگا۔

تازہ فیصلے سے پٹرول کی موجودہ قیمت فوری طور پر تبدیل نہیں ہوئی۔ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ کمیٹی نے جون 2027 کو ممکنہ ہدف مقرر کیا، ڈیزل کے لیے ہنگامی مداخلت کے اصول منظور کیے، آئی ایف ای ایم حساب کا طریقہ بدلنے پر اتفاق کیا اور حتمی سفارشات وزیراعظم کی منظوری کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔