اسلام آباد: پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.26 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ بیرونی تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 5.026 ارب ڈالر رہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں یہ مالیت 4.775 ارب ڈالر تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق کاٹن یارن کی برآمدات میں 24.47 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مالیت 182.45 ملین ڈالر سے بڑھ کر 227.1 ملین ڈالر ہو گئی۔ نٹ ویئر کی برآمدات 4.14 فیصد اضافے کے ساتھ 1.483 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ تولیوں کی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا اور مالیت 291.56 ملین ڈالر رہی، جبکہ ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات 15.69 فیصد بڑھ کر 1.223 ارب ڈالر ہو گئیں۔
تمام ٹیکسٹائل شعبوں میں یکساں بہتری نہیں ہوئی۔ کاٹن کلاتھ کی برآمدات 5.34 فیصد کم ہو کر 425.3 ملین ڈالر رہیں، جبکہ کاٹن کے علاوہ دیگر یارن کی برآمدات میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ بیڈ ویئر کی برآمدات تقریباً مستحکم رہیں اور معمولی کمی کے ساتھ 852.3 ملین ڈالر ہوئیں۔ خیموں، کینوس اور ترپال کی برآمدات میں 35.29 فیصد جبکہ آرٹ، سلک اور مصنوعی ٹیکسٹائل مصنوعات میں 7.01 فیصد کمی سامنے آئی۔
پی بی ایس کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات عارضی اعداد کے مطابق 2.961 ارب ڈالر رہیں، جو اگست کے 2.532 ارب ڈالر سے 16.94 فیصد زیادہ اور ستمبر 2025 کے مقابلے میں 18.5 فیصد زیادہ ہیں۔ جولائی تا ستمبر 2026 کی مجموعی ملکی برآمدات 8.445 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 7.599 ارب ڈالر کے مقابلے میں 11.13 فیصد اضافہ ہے۔
اسی عرصے میں درآمدات کی رفتار بھی تیز رہی۔ پہلی سہ ماہی میں مجموعی درآمدات 19.213 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 13.20 فیصد زیادہ ہیں۔ اس لیے ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ مثبت پیش رفت ہے، لیکن مجموعی تجارتی توازن کا جائزہ برآمدات کے ساتھ درآمدی بل اور عالمی طلب کی صورت حال کو مدنظر رکھ کر ہی لیا جا سکتا ہے۔
