اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سرحد پار تجارت کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور غیر محصولاتی رکاوٹوں سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے ٹریڈ فسیلی ٹیشن بورڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے، جبکہ متعلقہ اداروں کو تجارتی سپلائی چین کے مختلف مراحل میں درپیش رکاوٹوں کے حل کے لیے مشترکہ فیصلے کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔

اسلام آباد میں تجارتی سہولت کاری سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بورڈ درآمد اور برآمد سے جڑے عمل، سرحدی نقل و حرکت اور بندرگاہی خدمات میں بہتری کے لیے پالیسی سطح پر فیصلے کرے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بورڈ ملک میں تجارت بڑھانے کے لیے ایک باقاعدہ روڈ میپ تیار کرے گا، ٹریڈ فسیلی ٹیشن انڈیکس وضع کرے گا اور اصلاحات کی پیش رفت جانچنے کے لیے نگرانی کا نظام تشکیل دے گا۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے کے منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کی۔ اس مقصد کے لیے ورکنگ گروپس بنانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق یہ گروپس بندرگاہی صلاحیت میں اضافے، وفاقی و دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے، ضابطہ جاتی تقاضوں کی پابندی، جہاز پہنچنے سے پہلے کلیئرنس کی سہولت اور چھوٹے و متوسط کاروباروں کی بین الاقوامی تجارت میں شمولیت جیسے موضوعات پر کام کریں گے۔

شہباز شریف نے بندرگاہوں پر درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے نقل و حمل، دستاویزات، کلیئرنس اور دیگر مراحل کو سادہ بنانے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کو ممکنہ حد تک سہولت دی جائے تاکہ غیر ضروری تاخیر اور انتظامی اخراجات کم کیے جا سکیں۔ تاہم اجلاس کی دستیاب تفصیلات میں بورڈ کے ارکان، قانونی ڈھانچے، عمل درآمد کی حتمی مدت یا انڈیکس کے پیمانوں کی مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حالیہ اصلاحات کے نتیجے میں بندرگاہی چارجز میں کمی ہوئی ہے اور بندرگاہوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، البتہ اس اضافے کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔ حکام کے مطابق جہاز کی آمد سے پہلے گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت بھی وسیع کی جا رہی ہے، جس کا مقصد سامان کی کلیئرنس تیز کرنا ہے۔ نئے بورڈ کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تیار کیے جانے والے روڈ میپ، ذمہ داریوں اور نگرانی کے اہداف کو کتنی واضح مدت کے اندر نافذ کیا جاتا ہے۔