نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بگڑتی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں اور تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے ایران اور جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق کونسل کی بریفنگ میں کہا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سلامتی کونسل کے اندر اتفاق رائے کی کمی نے سفارتی تصفیے کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایران کی جوہری فائل سے متعلق صورت حال تیزی سے خراب ہوئی ہے اور اس کے اثرات سلامتی کونسل میں معاملے پر غور پر بھی پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے فریقوں سے ایسے بیانات، اقدامات اور طرز عمل سے گریز کا مطالبہ کیا جو تناؤ بڑھا سکتے ہوں یا وسیع تر تصادم کا خطرہ پیدا کریں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے تحمل اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
پاکستان نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے، کے تکنیکی کردار کی بھی حمایت کی۔ سفیر عثمان جدون کے مطابق عدم تعمیل سے متعلق سوالات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے متعلقہ تکنیکی اداروں کے ذریعے، فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق، حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کو اپنے تکنیکی مینڈیٹ کے اندر بلا رکاوٹ کام کرنے کے قابل بنایا جانا چاہیے۔
پاکستانی نمائندے نے کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے جون میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ سفارتی راستے سے پیش رفت ممکن ہے۔ انہوں نے قطر، سعودی عرب، ترکی، مصر، چین اور دیگر شراکت داروں کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کی قیادت پرامن تصفیے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کا تنازع کئی برسوں سے عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع ہے۔ 2015 کے جوہری معاہدے میں ایران کے پروگرام پر پابندیوں کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کا فریم ورک بنایا گیا تھا، لیکن امریکا 2018 میں معاہدے سے نکل گیا اور بعد کی بحالی کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ پاکستان کا تازہ بیان کسی نئے معاہدے یا جنگ بندی کا اعلان نہیں بلکہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا سفارتی مؤقف ہے، جس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ تکنیکی مسائل کو آئی اے ای اے اور سیاسی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

