اسلام آباد: پاکستان میں ضروری اشیا کی قلیل مدتی قیمتوں کی پیمائش کرنے والا حساس قیمت اشاریہ، ایس پی آئی، 3 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں گزشتہ ہفتے کے مقابل 0.65 فیصد بڑھ گیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس، پی بی ایس، کے جاری کردہ اعداد کے مطابق 2015-16 کو بنیاد بنانے والا اشاریہ 363.42 پوائنٹس ریکارڈ ہوا، جبکہ گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابل اضافہ 8.35 فیصد رہا۔

ہفتہ وار اضافے میں سب سے نمایاں کردار پیاز کی قیمت کا تھا، جو ایک ہفتے میں 26.30 فیصد بڑھ گئی۔ ٹماٹر 2.55 فیصد، آلو 0.96 فیصد، پیٹرول 0.90 فیصد، گندم کا آٹا 0.88 فیصد اور مرغی 0.85 فیصد مہنگی ہوئی۔ ماش کی دال، لہسن، سرسوں کے تیل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم ہر شے کی تبدیلی کی شرح الگ تھی۔

دوسری جانب کیلے کی قیمت 2.54 فیصد، مونگ کی دال 0.69 فیصد، ایل پی جی 0.45 فیصد، چینی 0.18 فیصد، انڈے 0.11 فیصد، چنے کی دال 0.06 فیصد اور گڑ 0.05 فیصد سستا ہوا۔ پی بی ایس کے زیرِ نگرانی 51 ضروری اشیا میں سے 17 کی قیمت بڑھی، سات کی گھٹی اور 27 کی قیمت میں ہفتہ وار تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس تقسیم سے واضح ہے کہ مجموعی اشاریے میں اضافہ چند نسبتاً زیادہ وزن یا تیز تبدیلی والی اشیا کے اثر سے بھی ہوسکتا ہے، چاہے نصف سے زیادہ اشیا مستحکم رہیں۔

آمدنی یا اخراجات کے لحاظ سے سب سے کم خرچ والے گھرانوں پر ہفتہ وار اضافہ نسبتاً زیادہ رہا۔ ماہانہ 17 ہزار 732 روپے تک خرچ کرنے والے پہلے گروپ کا ایس پی آئی 0.91 فیصد بڑھا۔ دوسرے اخراجاتی گروپ کے لیے اضافہ 0.83 فیصد، تیسرے کے لیے 0.71 فیصد، چوتھے کے لیے 0.68 فیصد اور سب سے زیادہ خرچ والے گروپ کے لیے 0.58 فیصد رہا۔ یہ اعداد اشیا کے مختلف وزن اور گھرانوں کے خرچ کے انداز میں فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔

سالانہ بنیاد پر پیاز کی قیمت 162.75 فیصد زیادہ رہی۔ ایل پی جی 53.61 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل 37.70 فیصد، پیٹرول 31.01 فیصد اور سب سے کم کھپت والے گروپ کے لیے بجلی کے چارجز 25.24 فیصد بڑھے۔ گندم کا آٹا 16.86 فیصد، مرچ پاؤڈر 16.37 فیصد، کیلے 16.07 فیصد، مٹن 16.03 فیصد، بیف 13.31 فیصد، تازہ دودھ 8.21 فیصد اور سادہ روٹی 8.09 فیصد مہنگی رہی۔

اسی سالانہ تقابل میں بعض اشیا سستی بھی ہوئیں۔ آلو 31.61 فیصد، مرغی 23.50 فیصد، چینی 19.38 فیصد، انڈے 18.18 فیصد، پسی ہوئی نمک 13.96 فیصد، چنے کی دال 12.95 فیصد، مسور کی دال 12.16 فیصد اور مونگ کی دال 7.19 فیصد گزشتہ سال کے اسی ہفتے سے کم قیمت پر تھیں۔ اس لیے 8.35 فیصد مجموعی سالانہ اضافہ تمام اشیا میں یکساں مہنگائی کا مطلب نہیں۔

ایس پی آئی 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 بنیادی اشیا کی قیمتیں جمع کرکے تیار کیا جاتا ہے اور روزمرہ ضروریات میں تیز تبدیلی کا فوری اشارہ فراہم کرتا ہے۔ یہ مکمل صارف قیمت اشاریے، سی پی آئی، کا متبادل نہیں، کیونکہ سی پی آئی میں اشیا اور خدمات کی زیادہ وسیع ٹوکری شامل ہوتی ہے۔ تازہ اعداد کا مصدقہ نتیجہ یہ ہے کہ زیرِ جائزہ ہفتے میں قلیل مدتی مہنگائی بڑھی اور اس اضافہ کا سب سے نمایاں جزو پیاز کی قیمت میں غیر معمولی ہفتہ وار چھلانگ تھی۔ آئندہ رجحان کا تعین آنے والے ہفتوں کی منڈی قیمتوں اور پی بی ایس کی نئی رپورٹوں سے ہوگا۔