اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کی قیادت میں کیے گئے تجارتی پابندیوں کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدام ان بستیوں کے پھیلاؤ اور ان سے منسلک معاشی سرگرمیوں کے بارے میں بین الاقوامی تشویش کے تناظر میں اہم ہے، جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ غیر قانونی آبادکاری دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کی قیادت میں کیے گئے اس فیصلے کو مثبت قدم سمجھتا ہے جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کے خلاف تجارتی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی مؤقف میں بنیادی زور اس بات پر ہے کہ آبادکاری کی سرگرمیاں فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی اور سیاسی وحدت کو متاثر کرتی ہیں اور ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو کمزور کرتی ہیں۔

دفتر خارجہ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں اور نئے آؤٹ پوسٹس کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے اور موجودہ ردعمل بھی اسی پالیسی کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

پاکستانی بیان میں برطانوی اقدام کو دو ریاستی حل کے تحفظ سے جوڑا گیا۔ دو ریاستی حل سے مراد ایسا سیاسی بندوبست ہے جس میں اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست قائم ہو۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں غیر قانونی بستیوں کا پھیلاؤ اس مقصد کے لیے درکار زمینی اور سیاسی امکانات کو محدود کرتا ہے۔

یہ خبر پاکستان کے سرکاری ردعمل سے متعلق ہے؛ پابندیوں کے عملی دائرہ کار، ان میں شامل دیگر ممالک، مخصوص مصنوعات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تمام تفصیلات دفتر خارجہ کے مختصر ردعمل میں بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے ان امور کے بارے میں کسی اضافی نتیجے کے بجائے متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ ضوابط اور اعلانات کو حتمی حوالہ سمجھا جائے گا۔

پاکستان نے اس پیش رفت کے ذریعے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی مخالفت اور مسئلہ فلسطین کے سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ اسلام آباد کے نزدیک ایسے اقدامات کی اہمیت اسی صورت میں بڑھے گی جب وہ بین الاقوامی قانون کے احترام، فلسطینی شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور ایک قابل عمل سیاسی تصفیے کی سمت عملی پیش رفت میں مدد دیں۔