پاکستانی روپیہ منگل 18 اگست 2026 کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی مضبوطی کے ساتھ بند ہوا۔ دستیاب مارکیٹ اعدادوشمار کے مطابق ڈالر کی اختتامی شرح 277.6122 روپے رہی، جو گزشتہ کاروباری روز کی 277.6228 روپے کی سطح سے 1.06 پیسے کم ہے۔ زر مبادلہ میں روپے کی قدر بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ڈالر خریدنے کے لیے نسبتاً کم روپے درکار ہوئے، تاہم یومیہ تبدیلی بہت محدود رہی۔
کاروباری سیشن کے دوران ڈالر کی بلند بولی 277.65 روپے اور کم طلب 277.60 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اوپن مارکیٹ میں ایکسچینج کمپنیوں نے ڈالر کی خریداری 278.00 روپے اور فروخت 278.65 روپے بتائی۔ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے نرخ الگ لین دین، لاگت اور طلب و رسد کی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے دونوں میں کچھ فرق معمول کی بات ہے۔
رپورٹ کے مطابق روپے نے یورو کے مقابلے میں بھی نمایاں یومیہ بہتری دکھائی۔ یورو 1.2199 روپے یا 0.38 فیصد کم ہوکر 321.2112 روپے پر بند ہوا، جبکہ ایک روز پہلے اس کی شرح 322.4311 روپے تھی۔ برطانوی پاؤنڈ 1.2636 روپے یا 0.34 فیصد کم ہوکر 375.4566 روپے رہا۔ سوئس فرانک کے مقابلے میں روپے کی قدر 1.9404 روپے یا تقریباً 0.57 فیصد بڑھی اور شرح 341.9501 روپے پر آگئی۔
جاپانی ین کی قیمت 0.0087 روپے کم ہوکر 1.7380 روپے رہی۔ چینی یوان 0.0318 روپے کی یومیہ کمی کے ساتھ 41.17 روپے کے قریب بند ہوا۔ سعودی ریال کی شرح 73.9412 روپے اور متحدہ عرب امارات کے درہم کی شرح 75.5901 روپے ریکارڈ کی گئی۔ ان اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کے سیشن میں بہتری صرف ڈالر تک محدود نہیں تھی، اگرچہ مختلف کرنسیوں کے مقابلے میں تبدیلی کی مقدار یکساں نہیں رہی۔
رواں مالی سال کے آغاز سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مجموعی بہتری 54.92 پیسے یا 0.20 فیصد بتائی گئی، جبکہ 2026 کے کیلنڈر سال میں اب تک قدر میں 2.5109 روپے یا 0.90 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ خبر رساں ادارے نے موجودہ سلسلے کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل 220ویں بہتری قرار دیا اور اس مدت کی مجموعی مضبوطی 3.8128 روپے یا 1.37 فیصد بتائی۔ یہ مسلسل سلسلہ بہت چھوٹی یومیہ تبدیلیوں پر مشتمل ہے، اس لیے اس کا مطلب ہر روز بڑی شرح سے اضافہ نہیں ہے۔
منی مارکیٹ میں چھ ماہ کے کراچی انٹربینک بولی اور پیش کش کے معیار نرخ ایک بنیادی پوائنٹ بڑھ کر بالترتیب 11.51 فیصد اور 11.76 فیصد ہوگئے۔ یہ نرخ بینکوں کے درمیان چھ ماہ کی مدت کے لیے فنڈنگ کی قیمت کا ایک حوالہ فراہم کرتے ہیں اور زرمبادلہ کی یومیہ بندش سے الگ مالی اشاریہ ہیں۔
روپے کی روزانہ قدر پر برآمدی وصولیوں، درآمدی ادائیگیوں، ترسیلات زر، توانائی کی ضروریات، مرکزی بینک کی پالیسی اور عالمی ڈالر کی حرکت سمیت کئی عوامل اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ایک سیشن کی معمولی بہتری کو طویل مدتی رجحان کا قطعی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ آئندہ دنوں میں انٹربینک کاروبار، بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کی رسد کے اعداد روپے کی سمت جانچنے کے لیے اہم رہیں گے۔




