اسلام آباد: حکومت نے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو دو دو نشستیں دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ چار دیگر پارلیمانی جماعتوں کو ایک ایک نمائندہ دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے 5 نومبر کو کمیٹی کی مجوزہ ساخت سے متعلق تفصیلات بتائیں، تاہم تحریک انصاف نے ابھی تک کمیٹی میں شمولیت کی حتمی منظوری نہیں دی۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف کو کمیٹی میں ایک ایک نشست دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کے ناموں کا حتمی فیصلہ قائد ایوان، نائب وزیراعظم، اپوزیشن، اتحادی جماعتوں اور متعلقہ پارلیمانی قیادت سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ مجوزہ کمیٹی کا مقصد انتخابی قوانین اور طریقہ کار پر پارلیمانی سطح پر مشاورت کے ذریعے ایسی اصلاحات تیار کرنا ہے جن سے عام انتخابات کی شفافیت اور بروقت انعقاد سے متعلق معاملات بہتر بنائے جا سکیں۔

پیپلز پارٹی کے ایک ذریعے نے ڈان کو بتایا کہ کمیٹی کی سربراہی ممکنہ طور پر پیپلز پارٹی کے پاس جا سکتی ہے، تاہم اس بارے میں کوئی حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ پیپلز پارٹی اپنے نمائندوں کے نام جمع کرا چکی ہے لیکن نام ابھی عوامی طور پر جاری نہیں کیے گئے۔ اس لیے کمیٹی کی چیئرمین شپ کو فی الحال امکان کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے، تصدیق شدہ فیصلہ نہیں۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے کہا کہ ان کی جماعت نے حکومت کے رویے کے باعث اب تک کمیٹی میں شامل ہونے پر رضامندی نہیں دی۔ ان کے مطابق حتمی فیصلہ مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ اپوزیشن اس سے قبل مجوزہ کمیٹی کی ساخت پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کی مساوی نمائندگی کا مطالبہ بھی کر چکی ہے۔

حکومت نے حالیہ دنوں میں اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن دونوں سے رابطے کیے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان سے نمائندوں کے نام مانگے گئے، جبکہ حکومت نے تحریک انصاف سے بھی اپوزیشن ارکان کی نامزدگیاں طلب کیں۔ پیپلز پارٹی کا ایک وفد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس سے بھی ملا اور انتخابی اصلاحات کے عمل میں اپوزیشن کی شرکت پر زور دیا۔

کمیٹی کی حتمی تشکیل اور پی ٹی آئی کی شرکت ابھی باقی مراحل ہیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو پارلیمانی مذاکرات کے فریم ورک کی تشکیل سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ انتخابی اصلاحات کے کسی حتمی پیکیج کی منظوری۔ آئندہ اجلاسوں میں ارکان کے نام، قیادت اور اصلاحاتی ایجنڈے کی تفصیلات طے ہونے کی توقع ہے۔