پاکستان انجینئرنگ کونسل نے 2025 میں فارغ التحصیل ہونے والے ایک ہزار 400 نوجوان انجینئرز کے لیے گریجویٹ انجینئر ٹرینی پلیسمنٹ پروگرام کے دوسرے بیچ کی مہارت سازی تربیت شروع کردی ہے۔ پروگرام کو انجینئرز کے لیے منظم ’’ہاؤس جاب‘‘ ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس میں صنعتی ماحول کا عملی تجربہ اور پیشہ ورانہ رویوں کی تربیت شامل ہے۔

اے پی پی کی چار ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق شرکا کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے 700 انجینئرز کی ایک ماہ کی مہارت سازی تربیت یکم سے 30 ستمبر تک جاری رہے گی، جبکہ باقی 700 کا سیشن یکم سے 31 اکتوبر 2026 تک ہوگا۔ یہ مرحلہ گریجویٹس آف 2025 کے لیے پروگرام کے فیز ٹو کا حصہ ہے۔

مکمل پروگرام چھ ماہ پر مشتمل ہے۔ ٹرینی پہلے ملک بھر کے 60 سے زیادہ صنعتی شراکت دار اداروں کے ساتھ پانچ ماہ فیلڈ ٹریننگ حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد ایک ماہ کی مخصوص اسکل ڈیولپمنٹ تربیت لیتے ہیں۔ پی ای سی کے مطابق ہر شریک کو پروگرام کے دوران ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مجموعی بجٹ، فنڈنگ کے الگ ذرائع یا ہر صنعتی ادارے میں ٹرینیوں کی تقسیم جاری نہیں کی گئی۔

ایک ماہ کا تربیتی حصہ ہفتے میں پانچ دن آٹھ مراکز پر منعقد ہورہا ہے۔ یہ مراکز اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، لاہور، ملتان، کراچی، حیدرآباد اور کوئٹہ میں قائم کیے گئے ہیں۔ مختلف شہروں میں مراکز رکھنے کا مقصد شرکا کو علاقائی سطح پر تربیت تک رسائی دینا ہے، تاہم دستیاب رپورٹ میں دور دراز اضلاع سے آنے والوں کے لیے رہائش یا سفری معاونت کی تفصیل نہیں دی گئی۔

نصاب میں ابلاغ، جذباتی ذہانت، پیشہ ورانہ تاثر، دباؤ سے نمٹنے، کاروباری تحریر، عوامی گفتگو، تنازعات کے حل، متعلقہ فریقوں کے انتظام، تنقیدی سوچ، وقت کے مؤثر استعمال، جدت اور انجینئرنگ اخلاقیات شامل ہیں۔ آخری ہفتے میں شرکا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیر اہتمام شخصیت سازی کے ایک ہفتے کے سرٹیفکیٹ پروگرام میں بھی حصہ لیں گے۔

پی ای سی کے چیئرمین انجینئر وسیم نذیر نے کہا کہ پروگرام کا مقصد جامعات میں حاصل کی گئی تعلیم اور عملی پیشہ ورانہ تقاضوں کے درمیان خلا کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق صنعتی ماحول میں براہ راست کام اور نرم مہارتوں کی تربیت نوجوان انجینئرز کی روزگار کے لیے تیاری اور صنعت و تعلیمی اداروں کے روابط بہتر کرسکتی ہے۔ یہ متوقع فوائد پروگرام کے مقاصد ہیں اور ان کی جانچ مکمل ہونے کے بعد روزگار، کارکردگی اور صنعتی آراء کے اعداد سے ہوگی۔

’’پلیسمنٹ پروگرام‘‘ کی اصطلاح کے باوجود دستیاب اعلان ہر ٹرینی کے لیے مستقل ملازمت کی ضمانت نہیں دیتا۔ رپورٹ نے یہ نہیں بتایا کہ صنعتی تربیت مکمل کرنے والوں میں کتنے افراد کو ملازمت کی پیشکش ملے گی، کارکردگی کس پیمانے پر جانچی جائے گی یا پروگرام کے بعد روزگار کا ڈیٹا کب جاری ہوگا۔ اس لیے اسے تنخواہ والی مستقل تقرری کے بجائے وظیفے کے ساتھ محدود مدت کی عملی و پیشہ ورانہ تربیت سمجھنا درست ہوگا۔

پروگرام کا قابل پیمائش نتیجہ تمام ایک ہزار 400 شرکا کی تکمیل کی شرح، صنعتی شراکت داروں کی تشخیص، تربیت کے بعد ملازمت یا کاروبار میں داخلے اور انجینئرنگ صلاحیت کے عملی استعمال سے سامنے آئے گا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پہلا 700 رکنی گروپ ستمبر کی تربیت شروع کرچکا ہے، دوسرا گروپ اکتوبر میں شامل ہوگا اور ہر ٹرینی کو پانچ ماہ فیلڈ تجربے کے ساتھ ایک ماہ کی مہارت سازی اور ماہانہ وظیفہ فراہم کیا جارہا ہے۔