پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا ہے کہ پشاور کے نواحی علاقے ارمڑ میں شمتو کیمپ کے قریب ایک انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کے دوران کالعدم داعش خراسان، جسے آئی ایس کے پی بھی کہا جاتا ہے، سے مبینہ طور پر وابستہ پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کابل انگلش لینگویج سینٹر کے قریب ایک کمپاؤنڈ میں کی گئی، جہاں موجود افراد کے بارے میں اطلاع تھی کہ وہ حساس تنصیبات، امام بارگاہوں اور گرجا گھروں سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سی ٹی ڈی کے حوالے سے بتایا کہ اہلکاروں نے کمپاؤنڈ کو گھیرے میں لینے کے بعد داخلی اور خارجی راستے محفوظ کیے۔ حکام کے مطابق اندر موجود مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے جواب میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے کارروائی کی اور پانچ افراد مارے گئے۔ جائے وقوعہ سے ایک سب مشین گن، پستول، دستی بم، میگزین، ایک دیسی ساختہ بارودی آلہ اور گولہ بارود برآمد ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان تفصیلات کی بنیادی نسبت سی ٹی ڈی کے بیان سے ہے اور آزادانہ عدالتی یا تفتیشی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
سی ٹی ڈی نے ہلاک افراد میں ایک شخص کی شناخت عمران عرف عبداللہ کے نام سے کی اور اسے کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر قرار دیا۔ محکمے کے مطابق وہ اسلام آباد اور دیگر اضلاع میں دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔ سی ٹی ڈی نے اسے فروری 2026 میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی سے بھی منسوب کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک اور ہلاک شخص شاہداللہ نے مبینہ طور پر اس حملے کے لیے ہدف کی نگرانی کی تھی۔ یہ تمام نسبتیں تفتیشی ادارے کے دعوے ہیں؛ ہلاک افراد کے خلاف زیر سماعت مقدمات کے حتمی عدالتی فیصلوں کی تفصیل رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔
حکام کے مطابق عمران دیگر بم دھماکوں اور پولیس اہلکاروں و سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق مقدمات میں بھی مطلوب تھا۔ سی ٹی ڈی نے کہا کہ باقی ہلاک افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ آپریشن کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائی بھی کی گئی۔
پشاور اور ملحقہ اضلاع میں حالیہ برسوں کے دوران پولیس اور انسداد دہشت گردی ادارے شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف متعدد انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ تازہ کارروائی کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ حکام نے ہلاک افراد کو مستقبل کے مبینہ حملوں کی منصوبہ بندی اور اسلام آباد کے ایک بڑے فرقہ وارانہ حملے سے جوڑا ہے۔ تاہم کسی بھی فوجداری الزام کی قانونی حیثیت ثبوت، تفتیش اور عدالتی عمل سے طے ہوتی ہے، اس لیے سی ٹی ڈی کے الزامات کو اسی نسبت کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔




