پشاور: صوبائی دارالحکومت کے علاقے آفریدی آباد میں جمعرات 15 اکتوبر کو ایک نجی تعلیمی ادارے کی چھت گرنے سے بچوں کی بڑی تعداد جاں بحق ہوگئی۔ ڈان کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس حادثے میں مجموعی طور پر 29 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، جن میں 28 طالب علم اور ایک خاتون استاد شامل ہیں۔ جاں بحق طلبہ کی عمریں سات سے سولہ سال کے درمیان بتائی گئی ہیں جبکہ 19 افراد زخمی ہوئے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ ان کے اسپتال میں 28 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ ایک مزید ہلاکت کی تصدیق نصیراللہ خان بابر میموریل اسپتال کی انتظامیہ نے کی۔ متاثرین کو فوری طور پر طبی امداد دینے کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ہنگامی انتظامات کیے گئے۔ حادثے کے بعد والدین، مقامی شہری، پولیس اور امدادی اہلکار موقع پر پہنچے اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق الخیر اسکول میں بچے معمول کے مطابق کلاسوں میں موجود تھے جب بالائی حصے کی چھت گری اور نیچے کی منزلیں بھی متاثر ہوئیں۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر نے بعد میں بتایا کہ امدادی کارروائی مکمل ہوچکی ہے، ملبہ صاف کردیا گیا ہے اور جائے حادثہ پر مزید زخمی بچے موجود نہیں۔ ابتدائی مرحلے میں ملبے تلے دبے افراد کی تعداد واضح نہ ہونے کے باعث ہلاکتوں کے اعدادوشمار بدلتے رہے۔
پشاور کے پولیس سربراہ ڈاکٹر میاں سعید احمد نے عمارت کے ڈھانچے کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر تعمیراتی بوجھ زیادہ تھا۔ تاہم حادثے کی قطعی وجہ کا تعین باضابطہ تحقیقات کے بعد ہی ہوگا؛ پولیس افسر کا ابتدائی بیان حتمی تکنیکی رپورٹ نہیں ہے۔ صوبائی گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی اور صوبے کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا حفاظتی جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے بچوں اور استاد کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے زخمیوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کی مدد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ صوبائی پولیس کی قیادت نے امدادی کارروائیوں کے دوران ایمبولینسوں کی آمدورفت کے لیے راستہ کھلا رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اس حادثے نے تعلیمی عمارتوں کی ساخت، اضافی تعمیرات کی نگرانی اور بچوں کی حفاظت کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ حکام کی جانب سے اعلان کردہ انکوائری اور عمارتوں کے حفاظتی آڈٹ کے نتائج سے واضح ہوگا کہ ذمہ داری کس سطح پر عائد ہوتی ہے اور مستقبل میں ایسے سانحات روکنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
