لندن: انٹرنیٹ پر وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان PHP میں سنگین سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد کمپنیوں اور حکومتی اداروں نے اپنے نظام محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پیچ نصب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق سائبر سکیورٹی نگرانی کرنے والے اداروں نے خامیوں کے افشا ہونے کے بعد استحصال کی کوششوں میں تیز اضافہ ریکارڈ کیا۔

PHP دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ویب سائٹس اور ویب ایپلی کیشنز کے سرور سائیڈ نظام میں استعمال ہوتی ہے۔ اس لیے کسی اہم خامی کا اثر صرف ایک کمپنی یا پلیٹ فارم تک محدود نہیں رہتا بلکہ مختلف شعبوں کے سرورز اور آن لائن خدمات خطرے میں آ سکتے ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ میں کلاؤڈ فلیئر کے مشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ افشا کے بعد حملہ آوروں کی جانب سے خامیوں کو استعمال کرنے کی کوششیں بڑی تعداد میں سامنے آئیں۔

سائبر سکیورٹی کے ایسے واقعات میں خامی کا عوامی انکشاف اور حملہ آوروں کی سرگرمی کے درمیان وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اداروں کو پہلے یہ معلوم کرنا پڑتا ہے کہ ان کے کون سے سرور متاثرہ ورژن چلا رہے ہیں، پھر پیچ یا محفوظ اپ ڈیٹ نصب کر کے سروسز کی جانچ کرنا ہوتی ہے۔ بڑے نیٹ ورکس میں یہ عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک ہی تنظیم کے مختلف نظاموں میں سافٹ ویئر کے الگ ورژن استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومتوں اور نجی کمپنیوں نے متعلقہ خامیوں کو بند کرنے کے لیے اپ ڈیٹس پر توجہ بڑھائی۔ تاہم ہیکنگ کی کوششوں کی تعداد خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہر کوشش کامیاب ہوئی یا متاثرہ تمام اداروں کا ڈیٹا چوری ہوا۔ کسی مخصوص خلاف ورزی، ڈیٹا لیک یا نظام پر قبضے کی تصدیق کے لیے الگ فرانزک شواہد درکار ہوتے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس خطرے کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے اوپن سورس یا بنیادی ویب سافٹ ویئر میں خامی سامنے آنے پر حملہ آور تیزی سے خودکار اسکیننگ اور استحصال شروع کر سکتے ہیں۔ ماہرین عموماً اداروں کو تازہ سکیورٹی اپ ڈیٹس، لاگز کی نگرانی، غیر ضروری انٹرنیٹ ایکسپوژر کم کرنے اور مشتبہ سرگرمی کی فوری جانچ کی ہدایت کرتے ہیں۔