کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے ایوی ایشن انڈسٹری کے تجربہ کار ایگزیکٹو ایڈرین ہیملٹن مانس کو اپنا نیا چیف ایگزیکٹو افسر مقرر کر دیا ہے۔ عرب نیوز پاکستان کے مطابق پی آئی اے کے بورڈ نے پیر کو تقرری کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایئرلائن کی جاری تبدیلی اور تنظیم نو کے عمل میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا۔
پی آئی اے کے مطابق نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ہیملٹن مانس کو ہوا بازی کے شعبے میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے اور وہ اس سے قبل تین ایئرلائنز کی قیادت بطور چیف ایگزیکٹو کر چکے ہیں۔ ان کے سابقہ عہدوں میں عمان کی کم لاگت والی ایئرلائن سلام ایئر، قازقستان کی فلائی اریستان اور افریقہ میں کام کرنے والی flyafrica.com کی قیادت شامل ہے۔ انہوں نے انڈیگو، ساؤتھ افریقن ایئرویز، ورجن آسٹریلیا کے پیسیفک بلیو اور دیگر فضائی کمپنیوں میں بھی سینئر ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔
بورڈ کے اعلان کے مطابق نئے چیف ایگزیکٹو کی توجہ ایئرلائن کی کاروباری کارکردگی، آپریشنل ڈھانچے اور تبدیلی کے پروگرام پر ہوگی۔ پی آئی اے نے انہیں ایئرلائنز کی تنظیم نو اور بحالی کے تجربے کا حامل قرار دیا ہے۔ تاہم ان کی تقرری سے مستقبل کی مالی یا آپریشنل کارکردگی کے کسی مخصوص نتیجے کی ضمانت نہیں دی گئی، اور ان اہداف کا جائزہ آنے والے عرصے میں کمپنی کے عملی نتائج سے ہی ممکن ہوگا۔
یہ تقرری پی آئی اے کی ملکیت اور انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کے بعد ہوئی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق دسمبر 2025 میں عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت والے کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں کمپنی کے 75 فیصد حصص خریدے تھے، جس کے بعد رواں سال جون میں نئے مالکان نے انتظامی کنٹرول سنبھالا۔ نجکاری سے قبل قومی فضائی کمپنی طویل عرصے سے قرض، آپریشنل مسائل اور مالی دباؤ کا سامنا کرتی رہی تھی۔
نئے انتظام کے تحت پی آئی اے اپنے بیڑے، روٹس اور خدمات میں تبدیلیاں کر رہی ہے۔ تقرری کے اعلان سے ایک روز پہلے ایئرلائن نے اپنے پہلے بوئنگ 787 ڈریم لائنر کی آمد کا اعلان کیا تھا، جسے طویل فاصلے کے نیٹ ورک کی توسیع سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے نجی انتظامیہ بین الاقوامی روٹس اور مسافر خدمات کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہیملٹن مانس سے پہلے ایئر وائس مارشل عامر حیات پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ نئے سی ای او کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کمپنی کو ایک جانب نئے سرمایہ کاروں کی کاروباری توقعات پوری کرنا ہیں اور دوسری جانب بیڑے، روٹ نیٹ ورک، خدمات اور مالی نظم کو بہتر بنانے کے اہداف حاصل کرنا ہیں۔ اس تبدیلی کی کامیابی کا انحصار عملی نفاذ، ریگولیٹری تقاضوں اور فضائی سفر کی مارکیٹ کے حالات پر ہوگا۔
