اسلام آباد: وزیراعظم نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے واقعے اور اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق معاملات کی جانچ کے لیے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو واقعے کے اسباب، حفاظتی نظام کی موجودہ حالت اور ممکنہ انتظامی کمزوریوں کا جائزہ لے کر 60 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تحقیقات کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے میں کن عوامل نے کردار ادا کیا اور آیا اسپتال میں آگ سے بچاؤ، ہنگامی اخراج، آلات کی دستیابی اور متعلقہ عملے کی تیاری مقررہ حفاظتی تقاضوں کے مطابق تھی یا نہیں۔ کمیٹی متعلقہ ریکارڈ، انتظامی فیصلوں اور فائر سیفٹی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لے گی اور ضرورت پڑنے پر ذمہ دار حکام اور دیگر متعلقہ افراد سے معلومات حاصل کرے گی۔
پمز وفاقی دارالحکومت کا ایک بڑا سرکاری تدریسی و علاج گاہ ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض، تیماردار، ڈاکٹر اور دیگر ملازمین موجود ہوتے ہیں۔ ایسے ادارے میں آتشزدگی کا واقعہ صرف املاک کا مسئلہ نہیں بلکہ مریضوں، خصوصاً انتہائی نگہداشت، آپریشن تھیٹر اور محدود نقل و حرکت رکھنے والے افراد کے لیے فوری حفاظتی خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بڑے اسپتالوں میں فائر الارم، آگ بجھانے کے آلات، واضح اخراجی راستوں اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی بنیادی حفاظتی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ صرف مخصوص واقعے کے فوری اسباب تک محدود رہنے کے بجائے پمز کے مجموعی فائر سیفٹی نظام کا بھی جائزہ لے گی۔ اس میں حفاظتی آلات کی دیکھ بھال، عمارتوں کے اندر ہنگامی راستوں کی حالت، بجلی کے نظام سے ممکنہ خطرات، آگ کی صورت میں مریضوں کے انخلا کا طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے جیسے امور شامل ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی دائرہ کار سرکاری شرائط اور کمیٹی کی تحقیقات سے متعین ہوگا۔
یہ مرحلہ ایک انتظامی تحقیقات کا ہے اور ابھی کسی فرد یا افسر کی ذمہ داری حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی۔ کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ واقعے کے اسباب کیا تھے، موجودہ حفاظتی انتظامات میں کون سی خامیاں پائی گئیں اور آیا کسی انتظامی یا تادیبی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے 60 روز کی مدت مقرر کیے جانے سے تحقیقات کے لیے ایک واضح ٹائم لائن سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کی نوعیت بعد کے حکومتی فیصلوں سے طے ہوگی، جبکہ اسپتال میں مریضوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات متعلقہ انتظامیہ کی جاری ذمہ داری رہیں گے۔
