اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں بحال کیے گئے 182 بستروں پر مشتمل پاکستان چین فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کرتے ہوئے مریضوں کو مفت اور معیاری علاج فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ طبی مرکز اصل میں کووڈ-19 وبا کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کو Isolation Hospital and Infectious Treatment Centre کے طور پر دیا گیا تھا، لیکن وبا کے بعد کئی برس تک غیر فعال رہا۔ اب اسے عمومی ہسپتال میں تبدیل کرکے نئے نام کے ساتھ دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب میں وزیراعظم نے ہسپتال کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال سے بریفنگ لی اور مریضوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل کو غیر فعال چھوڑنے کے بجائے عوامی خدمت کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت مریضوں کے علاج کے 100 فیصد اخراجات برداشت کرے گی جبکہ ہسپتال کا انتظام انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت سنبھالے گا۔
ہسپتال میں مجموعی طور پر 182 بستر ہیں جن میں 50 انتہائی نگہداشت کے بستر شامل ہیں۔ وزیر صحت کے مطابق اسلام آباد کی آبادی میں اضافے کے ساتھ راولپنڈی، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سے بھی بڑی تعداد میں مریض وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، اس لیے نئی فعال سہولت موجودہ طبی نظام پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 200 بستروں کا کینسر ہسپتال تیار کیا گیا ہے جس کے اگلے سال فعال ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے ہسپتال کی کارکردگی اور خدمات کے معیار کا تیسرے فریق سے آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی شفافیت اور مریضوں کو مؤثر سہولت فراہم کرنے کیلئے کارکردگی کی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔ انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں 15 ہسپتال، 140 بنیادی صحت مراکز، چار بلڈ سینٹر اور چار جسمانی بحالی مراکز چلا رہا ہے اور ہر ماہ تقریباً سات لاکھ مریضوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے طبی مرکز کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ دور کے آئسولیشن ہسپتال کو عمومی علاج کے ادارے میں تبدیل کرنا عوامی فلاح کیلئے اس سہولت کے مسلسل استعمال کا ذریعہ بنے گا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ہسپتال کے طویل عرصے تک بند رہنے پر افسوس کا اظہار کیا اور چینی حکومت و عوام کی جانب سے فراہم کیے گئے اثاثے کو بروقت استعمال نہ کرنے کو انتظامی غفلت قرار دیا۔
نئے انتظام کے تحت مالی ذمہ داری حکومت جبکہ روزمرہ طبی و انتظامی آپریشن انڈس ہسپتال نیٹ ورک کے پاس ہوگا۔ اس ماڈل کی کامیابی کا اصل پیمانہ مریضوں کیلئے مفت علاج کی عملی دستیابی، ادویات اور تشخیصی سہولتوں کا تسلسل، طبی عملے کی دستیابی اور تیسرے فریق کے آڈٹ میں سامنے آنے والے نتائج ہوں گے۔
