اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے مشاورت کی دعوت دی ہے۔ ڈان نے وزیراعظم کے قریبی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ دعوت چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ضروری مشاورتی عمل شروع کرنے کی غرض سے دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق محمود خان اچکزئی نے تاحال وزیراعظم کی دعوت کا جواب نہیں دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سیاسی ماحول میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور تحریک انصاف کی قیادت میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاری بھی جاری ہے۔ اس پس منظر میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر رابطہ ایک محدود مگر اہم آئینی معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست گفتگو کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی چند روز قبل ایوان میں سیاسی ہم آہنگی اور استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی تھی کہ وزیراعظم نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر قائد حزب اختلاف کو مشاورت کے لیے مدعو کریں۔ وزیراعظم کی تازہ دعوت کو اسی تناظر میں ایک عملی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری ایک آئینی عمل ہے جس میں وزیراعظم اور قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر دونوں فریق کسی نام پر اتفاق نہ کر سکیں تو آئین میں پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ اس لیے دعوت کے بعد اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ اپوزیشن مشاورت میں شامل ہوتی ہے یا نہیں اور ممکنہ امیدواروں پر اتفاق رائے بنتا ہے یا معاملہ اگلے آئینی مرحلے میں جاتا ہے۔

ابھی کسی نئے چیف الیکشن کمشنر کے نام کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا۔ اس لیے موجودہ خبر تقرری کے حتمی فیصلے کے بجائے مشاورتی عمل شروع کرنے کی دعوت سے متعلق ہے۔ آئندہ پیش رفت محمود خان اچکزئی کے جواب، دونوں جانب سے تجویز کیے جانے والے ناموں اور آئینی مشاورت کے نتیجے پر منحصر ہوگی۔