اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کی رہائشی قرضہ اسکیم ’’اپنا گھر‘‘ کے عملی اثرات اور مستفید ہونے والے افراد کی صورتحال جانچنے کے لیے سروے کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسکیم کے تحت اب تک 53 ہزار سے زیادہ قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 8,700 سے زائد درخواست گزاروں کو مجموعی طور پر 45.4 ارب روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔
سروے کی ہدایت کا مقصد محض منظور شدہ درخواستوں کی تعداد گننے کے بجائے یہ دیکھنا ہے کہ قرضوں کی فراہمی سے گھر کی تعمیر یا خریداری کے اہداف کس حد تک حاصل ہوئے اور اسکیم تک رسائی میں درخواست گزاروں کو کن عملی مسائل کا سامنا ہے۔ اس نوعیت کی جانچ حکومتی پروگرام کے نتائج، مالی رسائی اور عمل درآمد کی رفتار کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار میں منظور شدہ قرضوں اور بالفعل رقم حاصل کرنے والے درخواست گزاروں کی تعداد میں واضح فرق موجود ہے۔ 53 ہزار سے زائد منظوریوں کے مقابلے میں 8,700 سے زیادہ افراد کو رقم جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ منظوری، دستاویزی مراحل اور رقم کی تقسیم الگ مراحل ہیں۔ تاہم رپورٹ میں ہر زیر التوا کیس کی وجہ بیان نہیں کی گئی، اس لیے اس فرق کو کسی ایک انتظامی رکاوٹ سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان میں کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں کے لیے مکان کی خریداری یا تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں طویل مدتی اور قابل برداشت فنانسنگ تک رسائی شامل ہے۔ رہائشی قرضہ پروگرام اسی خلا کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی شرح سود، ماہانہ اقساط، زمین اور تعمیراتی لاگت، بینکوں کے قرضہ معیار اور درخواست گزاروں کی آمدنی کی دستاویزات جیسے عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے سروے کا حکم ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جب حکومت اسکیم کے دائرہ کار اور قرضوں کے اجرا کی رفتار کا جائزہ لے رہی ہے۔ سروے کے نتائج سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ موجودہ طریقہ کار میں کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور آیا منظور شدہ قرضوں کو عملی تقسیم میں تبدیل کرنے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔
فی الحال دستیاب رپورٹ اسکیم کی منظوریوں اور تقسیم شدہ رقم کے مجموعی اعداد فراہم کرتی ہے۔ کسی بھی آئندہ توسیع، اہلیت میں تبدیلی یا اضافی مالی مختص کی تصدیق متعلقہ حکومتی فیصلے کے بعد ہی کی جا سکے گی۔




