اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان میں طبی یا دندان سازی کی تعلیم حاصل کرنے والے افغان شہریوں پر قومیت کی بنیاد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ کونسل کے مطابق افغان میڈیکل طلبہ سے متعلق موجودہ کارروائی امتیازی پالیسی کے بجائے رجسٹریشن، دستاویزات اور قانونی تعلیمی حیثیت کی جانچ کا عمل ہے۔
پی ایم ڈی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان مقررہ تعلیمی، رجسٹریشن، امیگریشن اور دستاویزی تقاضے پورے کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے لیے قبول کرتا ہے۔ کونسل کے مطابق 200 سے زائد افغان طلبہ کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا، جن میں صرف 22 کی باقاعدہ رجسٹریشن کی تصدیق ہو سکی، جبکہ 176 طلبہ کی تصدیق کا عمل ابھی جاری ہے۔
کونسل کا مؤقف ہے کہ ایسے طلبہ جن کا باقاعدہ اندراج ریکارڈ میں موجود نہ ہو، انہیں قانونی طور پر رجسٹرڈ طالب علم تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم پی ایم ڈی سی نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ طلبہ کے معاملات کو انسانی بنیادوں پر سہولت دینے اور دستاویزات کی تصدیق مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس وضاحت کا مقصد ان رپورٹس اور تنقید کا جواب دینا ہے جن میں افغان طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے بارے میں خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
اس معاملے میں قانونی اور انسانی دونوں پہلو اہم ہیں۔ ایک طرف میڈیکل تعلیم کے معیار، داخلہ ریکارڈ اور ریگولیٹری تعمیل کی ذمہ داری پی ایم ڈی سی پر عائد ہوتی ہے، دوسری طرف ایسے طلبہ موجود ہیں جنہوں نے پاکستان میں اپنی تعلیم پر وقت اور وسائل صرف کیے ہیں اور جن کی حیثیت دستاویزی جانچ سے مشروط ہو گئی ہے۔ اسی لیے حتمی نتیجہ ہر طالب علم کے ریکارڈ، داخلے کے طریقہ کار اور متعلقہ حکومتی پالیسی کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
پی ایم ڈی سی کی تازہ وضاحت کسی ایک طالب علم کے حق یا خلاف حتمی فیصلہ نہیں بلکہ جاری ریگولیٹری جائزے کی پوزیشن بیان کرتی ہے۔ 176 طلبہ کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ کتنے طلبہ تمام تقاضے پورے کرتے ہیں اور کتنے کیسز میں اضافی دستاویزات یا انتظامی فیصلوں کی ضرورت ہوگی۔ اس مرحلے پر قومیت کی بنیاد پر عمومی پابندی کا دعویٰ کونسل نے واضح طور پر مسترد کیا ہے۔




