اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ سطحی مشاورت میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد پیدا ہونے والی انتظامی، سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنما شریک ہوئے، جبکہ صوبائی حکام نے متعلقہ صورتحال پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی، سینیٹر شیری رحمان، راجا پرویز اشرف، خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی، بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی، وفاقی کابینہ کے بعض ارکان اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے گورنر نے صوبے میں انتظامی اقدامات اور دہشت گردی سے متعلق تازہ صورتحال سے وزیراعظم اور شرکا کو آگاہ کیا۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے بھی اپنے صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس کے حوالے سے جاری تفصیلات میں کسی نئے آپریشن، قانونی حکم یا انتظامی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا، بلکہ اسے حکمران اتحاد کی سطح پر صورتحال کے جائزے اور مشاورت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

اجلاس میں مجوزہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی تشکیل بھی زیر بحث آئی۔ وزیراعظم نے خواہش ظاہر کی کہ کمیٹی کی تشکیل میں مزید تاخیر نہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اپنے نمائندوں کے نام جلد قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو بھجوا دے گی۔ انتخابی اصلاحات کی کمیٹی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الگ سیاسی مشاورت بھی جاری ہے۔

اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی الگ ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس ملاقات کی مکمل تفصیلات سرکاری اعلامیے کی صورت میں دستیاب نہیں تھیں، اس لیے اس سے متعلق معلومات کو ذریعے سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر حکمران اتحاد کی مشاورت ایسے وقت ہوئی ہے جب صوبے میں گورنر راج اور سیاسی کشیدگی پر حکومت اور اپوزیشن کے مؤقف شدید مختلف ہیں۔ آئندہ انتظامی اقدامات، صوبائی سیاسی عمل اور انتخابی اصلاحات کے بارے میں کسی حتمی فیصلے کا انحصار مزید حکومتی اور پارلیمانی مشاورت پر ہوگا۔