اسلام آباد: پاور ڈویژن نے بجلی کے ڈیٹیکشن بلنگ نظام کو ڈیجیٹل اور خودکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تخمینی بلوں میں انسانی مداخلت اور غیر ضروری صوابدید کم کی جا سکے۔ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعے 4 ستمبر کو جاری سرکاری اعلامیے کے مطابق تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نیپرا کے کنزیومر سروس مینوئل میں ضروری تبدیلیوں کے لیے اقدامات کرنے اور متعلقہ انتظامی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈیٹیکشن بل عموماً ان حالات میں جاری کیا جاتا ہے جب میٹر خراب ہو، اس میں تکنیکی نقص پیدا ہو، بجلی کی اصل کھپت درست طور پر ریکارڈ نہ ہو سکے یا قواعد کے تحت استعمال کا اندازہ لگانا ضروری ہو۔ پاور ڈویژن نے تسلیم کیا کہ بعض معاملات میں تخمینہ صارف کی حقیقی کھپت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، جس کے نتیجے میں زائد بلنگ اور شکایت کے طویل عمل کی صورتحال پیدا ہوئی۔ موجودہ نظام میں اہلکاروں کی مداخلت اور صوابدید کی گنجائش نے شفافیت اور ممکنہ بے قاعدگی کے خدشات بھی پیدا کیے۔
نئے مجوزہ طریقۂ کار میں ڈیٹیکشن بل اور ان سے منسلک وصولیوں کی ہر ماہ نگرانی کی جائے گی۔ سرکاری بیان کے مطابق اس جائزے کا مقصد زائد بلنگ یا غیر معمولی رجحان کو جلد شناخت کرنا اور بروقت اصلاحی کارروائی ممکن بنانا ہے۔ تاہم اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کون تیار کرے گا، الگورتھم کس ڈیٹا پر تخمینہ لگائے گا یا ہر تقسیم کار کمپنی کے لیے نفاذ کی حتمی تاریخ کیا ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد صارفین کو سہولت دینا، ان کے حقوق کا تحفظ کرنا اور بلنگ پر عوامی اعتماد بہتر بنانا ہے۔ یہ حکومت کا بیان کردہ مقصد ہے؛ اس کے عملی نتائج کا اندازہ نظام کے نفاذ، شکایات میں کمی، درست بلوں کے تناسب اور صارف کی اپیل کے مؤثر طریقے سے ہوگا۔
پاور ڈویژن کی ہدایت خود بخود نیپرا کے قواعد میں مکمل اور نافذ شدہ ترمیم نہیں بنتی۔ کنزیومر سروس مینوئل میں رسمی تبدیلی کے لیے متعلقہ ضابطہ جاتی عمل، متن کی منظوری اور ڈسکوز کی عملی تیاری درکار ہو سکتی ہے۔ اسی طرح خودکار تخمینہ بھی درست میٹر ڈیٹا، ماضی کی کھپت، تکنیکی ریکارڈ اور قابلِ جانچ حساب کے بغیر غلطی سے پاک نہیں ہوگا، اس لیے صارف کو بل کی بنیاد سمجھنے اور اعتراض اٹھانے کا حق اہم رہے گا۔
سرکاری اعلامیے میں صارف کی شکایت درج کرانے کی موجودہ مدت، اپیل کے فورم، غلط بل کی واپسی، جرمانے یا اہلکار کی ذمہ داری سے متعلق نئی تفصیلی شقیں جاری نہیں کی گئیں۔ اس وجہ سے تازہ پیش رفت کا مصدقہ دائرہ ڈیجیٹلائزیشن کے فیصلے، انسانی صوابدید کم کرنے کے مقصد، ڈسکوز کو قواعدی اقدامات کی ہدایت اور ماہانہ نگرانی تک محدود ہے۔
عملی نفاذ کے بعد قابلِ پیمائش سوال یہ ہوں گے کہ سسٹم کس بنیاد پر کھپت کا تخمینہ بناتا ہے، صارف کو ثبوت اور حساب کیسے دکھایا جاتا ہے، غیر معمولی بل کتنی جلد روکا جاتا ہے اور غلطی کی صورت میں تصحیح کتنے وقت میں ہوتی ہے۔ پاور ڈویژن نے اس اقدام کو وسیع تر بجلی شعبہ اصلاحات کا حصہ قرار دیا ہے، مگر فی الحال کسی ڈسکو میں مکمل ملک گیر آغاز یا آزمائشی مرحلے کی الگ تفصیل سامنے نہیں آئی۔




