اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہیں مجوزہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات میں شامل ہونے اور پارلیمان کی قائمہ کمیٹیوں میں دوبارہ شرکت کی دعوت دی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے فوری جواب دینے کے بجائے اپنی جماعتوں اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد مؤقف دینے کا کہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کی قیادت میں وفد نے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے چیمبر میں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں نیئر بخاری، ندیم افضل چن اور سینیٹر وقار مہدی شامل تھے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے محمود خان اچکزئی، نورالحق قادری اور سینیٹر علی ظفر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل پر بار بار اٹھنے والے سوالات پارلیمان کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں، اس لیے حکومت اور اپوزیشن کو ایک مشترکہ فورم پر انتخابی نظام کی شفافیت سے متعلق تجاویز تیار کرنی چاہئیں۔ شیری رحمان کے مطابق مجوزہ کمیٹی دونوں ایوانوں کے ارکان پر مشتمل ہوگی اور اپنی سفارشات منظوری کے لیے پارلیمان کے سامنے رکھے گی۔
وفد نے اپوزیشن ارکان سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کی درخواست بھی کی۔ اپوزیشن کے بعض ارکان نے 2025 میں اپنی جماعتی ہدایات پر ان کمیٹیوں سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیاں پارلیمانی نگرانی اور قانون سازی کا بنیادی حصہ ہیں اور اپوزیشن کی عدم شرکت سے اس کے اپنے اعتراضات اور تجاویز مؤثر طور پر زیرِ بحث نہیں آ پاتیں۔
سینیٹر علی ظفر نے ملاقات کے بعد انتخابی اصلاحات کی ضرورت سے اتفاق کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مسئلہ صرف نئے قوانین کی کمی نہیں بلکہ موجودہ انتخابی قوانین کا دیانت دارانہ، شفاف اور بلاامتیاز نفاذ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مجوزہ کمیٹی میں شرکت کے معاملے پر داخلی مشاورت کے بعد جواب دے گی۔ یہ اپوزیشن کا سیاسی مؤقف ہے اور ابھی کمیٹی میں شمولیت کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ملاقات میں نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کی اطلاع ہے۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت ختم ہو چکی ہے، تاہم آئینی انتظام کے تحت جانشین کی تقرری تک وہ عہدے پر برقرار ہیں۔ انتخابی اصلاحات پر ممکنہ مشترکہ پارلیمانی عمل کا اگلا مرحلہ اب اپوزیشن کی مشاورت اور اس کے باضابطہ جواب سے مشروط ہوگا۔
