اسلام آباد: سینیٹ میں ملک میں غربت کی صورتحال، پی ٹی آئی سے وابستہ خواتین کی حراست اور مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت بحث ہوئی۔ اپوزیشن ارکان نے معاشی دباؤ اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ سلوک کو حکومتی ترجیحات سے جوڑا، جبکہ حکومتی نمائندوں نے کہا کہ زیر حراست افراد کی طبی ضروریات کے بارے میں غفلت نہیں برتی جائے گی۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما سینیٹر علی ظفر نے ایوان میں عالمی بینک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے غربت کی بڑھتی سطح پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار اور ان سے اخذ کیے گئے سیاسی نتائج سینیٹر علی ظفر کے بیان کے طور پر سامنے آئے، جبکہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے ان کے تمام معاشی دعوؤں کی الگ تفصیلی توثیق پیش نہیں کی گئی۔
بحث کا ایک اہم حصہ پی ٹی آئی بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی حراست اور علاج سے متعلق تھا۔ سینیٹر محسن عزیز نے ان کی صحت اور اہل خانہ سے ملاقات کے معاملے پر اعتراض کیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جواب دیا کہ طبی فیصلے ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق کیے جا رہے ہیں اور حکومت ان کی صحت کے معاملے میں ذمہ داری پوری کرے گی۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی نے بتایا کہ نورین نیازی کے شوہر کے مطابق علاج جاری ہے اور انہیں اپنی بڑی بیٹی سے ملاقات کی اجازت بھی دی گئی۔
قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے نورین نیازی کے علاوہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر زیر حراست خواتین کا ذکر کرتے ہوئے ان کی رہائی یا کم از کم گھروں میں نظر بندی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور وہاں گورنر راج کے نفاذ پر بھی تنقید کی۔ یہ مؤقف اپوزیشن کا سیاسی دعویٰ ہے اور اسے عدالتی نتیجے یا کسی آزاد تحقیق کی حتمی finding کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
جے یو آئی ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کی اور خبردار کیا کہ قانون سے باہر کارروائیوں کا رجحان سیاسی کارکنوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اجلاس میں اس الزام کے حوالے سے کسی مخصوص واقعے پر حتمی عدالتی فیصلہ پیش نہیں کیا گیا۔
سینیٹ کی یہ بحث ایسے وقت ہوئی جب معاشی مشکلات اور سیاسی کشیدگی دونوں پارلیمانی گفتگو کے نمایاں موضوعات ہیں۔ اپوزیشن نے حکومت سے غربت، بنیادی خدمات اور زیر حراست سیاسی کارکنوں کے حقوق پر توجہ بڑھانے کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومتی جانب سے نورین نیازی کے علاج کے معاملے میں طبی مشورے پر عمل اور مناسب نگہداشت کی یقین دہانی سامنے آئی۔
