کراچی: سندھ میں ایم پاکس کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے اور کراچی کے تین سالہ بچے میں وائرس کی تصدیق کے بعد صوبے میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد 115 ہوگئی ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق بچہ اس وقت سندھ انفیکشس ڈیزیز ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں زیر علاج ہے۔
ایم پاکس ایک وائرل انفیکشن ہے جو متاثرہ شخص کے قریب رابطے، آلودہ بستر، تولیوں، طبی آلات، سطحوں یا دوسری اشیا کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ تازہ کیس اس لیے بھی اہم ہے کہ طبی ذرائع نے اسے ملیر کے اسی ہسپتال سے جوڑا ہے جہاں حالیہ دو کم عمر مریضوں نے بھی ختنہ کرایا تھا اور جہاں انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے کے بعد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے کارروائی کی تھی۔
ایک ڈاکٹر کے مطابق تین سالہ بچے نے بھی اسی طبی مرکز میں ختنہ کرایا تھا۔ اس سے پہلے ایک شیر خوار بچے میں ایم پاکس کی تشخیص ہوئی تھی جو دس روز علاج کے بعد انتقال کر گیا، جبکہ ایک اور کم عمر مریض انتہائی نگہداشت میں زیر علاج رہا۔ حکام نے ابھی ہر کیس کے درمیان منتقلی کی حتمی کڑی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا، اس لیے طبی مرکز سے وائرس منتقل ہونے کے امکان کو تحقیقات اور انفیکشن کنٹرول خدشات کے تناظر میں ہی دیکھا جا رہا ہے۔
سندھ انفیکشس ڈیزیز ہسپتال میں اس وقت سات ایم پاکس مریض زیر علاج بتائے گئے ہیں۔ ان میں انتقال کرنے والے شیر خوار بچے کی والدہ اور ایک قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ تازہ کیس کے بعد اس مخصوص ہسپتال میں رواں سال رپورٹ ہونے والے ایم پاکس کیسز کی تعداد 31 ہوگئی، جبکہ صوبے بھر میں 115 کیسز اور 12 اموات رپورٹ ہونے کا بتایا گیا ہے۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے ملیر کے ابن حسن ہسپتال کو ایک شیر خوار بچے میں ایم پاکس کی لیبارٹری تصدیق اور انفیکشن کنٹرول سے متعلق خدشات سامنے آنے کے بعد دس روز سے زائد عرصہ قبل سیل کیا تھا۔ کمیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر احسن قوی صدیقی کے مطابق طبی مرکز قانونی طور پر قائم تھا لیکن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھا۔ معائنے کے دوران ایک ڈسپنسر کو ختنہ کرتے پایا گیا، جو حکام کے مطابق اس کے مجاز دائرہ کار سے باہر تھا۔
ہسپتال کو جمعہ کے روز صفائی، فومیگیشن اور جراثیم کش کارروائی کے لیے عارضی طور پر کھولا گیا اور پھر دوبارہ سیل کردیا گیا۔ حکام کے مطابق صفائی کے مراحل کے بعد نمونے لیے جائیں گے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ سہولت دوبارہ استعمال کے لیے محفوظ ہے یا نہیں، جبکہ متعلقہ فریق سے قانونی دستاویزات بھی طلب کی گئی ہیں۔ تازہ کیس نے طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول، آلات کی جراثیم کشی اور مجاز عملے کے ذریعے طبی طریقہ کار کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا ہے۔
