اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کی قیادت نے تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم، عوامی روابط اور علاقائی امن و استحکام سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری وسیع کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے 30 اکتوبر کو اسلام آباد کے سرکاری دورے کے دوران ہوئی۔
سنگاپور کی وزارت خارجہ کے مطابق ڈاکٹر بالاکرشنن نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔ فریقین نے پاکستان اور سنگاپور کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کو دوطرفہ روابط مزید گہرے کرنے کا موقع قرار دیا۔ علاقائی سلامتی کی بدلتی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
سنگاپور کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی۔ دونوں وزرا نے ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، ٹیکنالوجی، تجارت، عوامی روابط اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔ اسی موقع پر سنگاپور سول ڈیفنس فورس اور پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق اس فریم ورک کے تحت دونوں ادارے پیشگی انتباہی نظام، قدرتی آفات کے خطرات کم کرنے کے بہترین طریقوں کے تبادلے، سرچ اینڈ ریسکیو صلاحیتوں کی ترقی اور مشترکہ تربیت و مشقوں میں تعاون کریں گے۔ یادداشت دستخط کی تاریخ سے نافذ العمل ہے اور کسی بھی فریق کی جانب سے 90 روز کا تحریری نوٹس دے کر ختم کیے جانے تک برقرار رہے گی۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر بالاکرشنن نے کہا کہ پاکستان اور سنگاپور کے سیاسی و سفارتی تعلقات مضبوط ہیں لیکن باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کاربن مارکیٹس، اعلیٰ تعلیم اور نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتوں کو ممکنہ تعاون کے شعبوں میں شمار کیا۔ انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دورہ بھی کیا۔
دونوں ملکوں نے علاقائی اور عالمی امور پر رابطہ برقرار رکھنے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ سنگاپور 2027 میں آسیان کی صدارت سنبھالے گا، جس کے تناظر میں پاکستان اور آسیان کے روابط بڑھانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
