اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے سابق فیصلوں پر عملدرآمد میں حکومتی تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالتی احکامات محض سفارش نہیں بلکہ قانونی طور پر قابلِ عمل ہدایات ہیں۔ عدالت نے یہ ریمارکس پنجاب اور وفاقی حکومت کے خلاف ان توہینِ عدالت درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے جو برطرف کیے گئے سرکاری ملازمین سے متعلق دائر کی گئی تھیں۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس علی باقر نجفی نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ آئینی جمہوریت میں قانون کی حکمرانی نظامِ حکومت کی قانونی حیثیت کی بنیاد ہے۔ عدالت کے مطابق عدالتی فیصلوں کی تعمیل کسی ادارے کی صوابدید یا خیرسگالی کا معاملہ نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری ہے، اور ان پر عمل نہ ہونے سے عدلیہ پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

مقدمے کا پس منظر دسمبر 2021 کے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے اگست 2021 میں سپریم کورٹ نے سَیکڈ ایمپلائز (ری انسٹیٹمنٹ) آرڈیننس ایکٹ 2010 کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں مختلف وفاقی اور سرکاری اداروں کے ہزاروں ملازمین متاثر ہوئے تھے۔ بعد کی عدالتی کارروائی میں بعض ملازمین کے حقِ روزگار کے تحفظ کے لیے شرائط مقرر کی گئی تھیں، جن میں متعلقہ آسامیوں کے لیے امتحانات کا انعقاد بھی شامل تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ایسے امتحانات منعقد کرانا متعلقہ آجر اداروں کی ذمہ داری تھی۔ اگر اداروں نے مقررہ مدت میں امتحان لینے کی پیشکش ہی نہیں کی تو اس کا نقصان ملازمین کو نہیں پہنچایا جا سکتا، کیونکہ ریکارڈ کے مطابق انہوں نے امتحان دینے سے انکار نہیں کیا تھا۔

عدالت نے اس امر پر بھی توجہ دلائی کہ متعلقہ ملازمین کو ایک حکومت نے بھرتی کیا، دوسری نے برطرف کیا، بعد میں انہیں بحال کیا گیا اور پھر بحالی کی قانونی بنیاد عدالتی فیصلے سے ختم ہوئی۔ عدالت کے مطابق اس پورے سلسلے میں ملازمین کی اپنی کوئی غلطی ثابت نہیں ہوئی۔

فیصلے میں حکومت اور متعلقہ محکموں کی طویل غیر فعالیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنا یا ان پر غیر ضروری تاخیر سے عمل کرنا انتظامیہ کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کی خطرناک نظیر بن سکتا ہے۔ عدالت نے عدالتی فیصلوں کے مؤثر نفاذ کو آئینی توازن اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔