اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری جرمنی کے تین روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہورہا ہے اور دونوں ممالک اسے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ صدر زرداری اپنے قیام کے دوران جرمن قیادت سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور جرمنی کے سیاسی و سفارتی تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون، توانائی، ماحولیات، تعلیم اور عوامی روابط سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں پر بات چیت متوقع ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال بھی مذاکرات کا حصہ ہوگی۔
پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات 1951 میں قائم ہوئے تھے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں جرمنی پاکستان کے اہم یورپی تجارتی اور ترقیاتی شراکت داروں میں شامل رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے علاوہ پیشہ ورانہ تربیت، قابل تجدید توانائی، موسمیاتی منصوبوں اور ترقیاتی پروگراموں میں بھی تعاون موجود ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق موجودہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے مختلف سطحوں پر رابطے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات میں جرمنی کو ایک اہم ملک سمجھتا ہے، جبکہ جرمنی کے لیے پاکستان جنوبی ایشیا میں آبادی، منڈی اور علاقائی اہمیت کے اعتبار سے ایک نمایاں شراکت دار ہے۔
صدر کے دورے میں اقتصادی روابط کو وسعت دینے پر خصوصی توجہ متوقع ہے۔ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور برآمدی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ جرمن کمپنیوں کے لیے توانائی، انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ اور ماحول دوست ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم کسی نئے تجارتی یا سرمایہ کاری معاہدے کے بارے میں حتمی تفصیل سرکاری ملاقاتوں کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
دورے کے دوران عالمی اور علاقائی سلامتی کے معاملات بھی زیر بحث آسکتے ہیں، کیونکہ یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں جاری سیاسی و سلامتی کی تبدیلیاں دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی ترجیحات پر اثرانداز ہورہی ہیں۔ پاکستان مختلف عالمی فورمز پر جرمنی کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے اور برلن کے ساتھ سفارتی مشاورت کو یورپ کے ساتھ اپنے وسیع تر تعلقات کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
دفتر خارجہ نے دورے کو دونوں ملکوں کی جانب سے شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار قرار دیا ہے۔ ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ یا الگ سرکاری بیانات سے یہ واضح ہوگا کہ کن شعبوں میں نئے عملی اقدامات، معاہدے یا تعاون کے منصوبے طے پاتے ہیں۔
