اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری 22 سے 24 اکتوبر 2026 تک جرمنی کا دورہ کریں گے، جہاں وہ جرمن صدر، اعلیٰ حکومتی قیادت اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دورے میں پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو خاص توجہ دی جائے گی۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ صدر زرداری کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔ رواں سال پاکستان اور جرمنی اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، اس لیے یہ دورہ دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور جرمنی نے 1951 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

صدر زرداری جرمنی کے وفاقی صدر کے علاوہ دیگر سینئر رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ سیاسی روابط، اقتصادی شراکت داری، تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو متوقع ہے۔ کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتوں کا مقصد نجی شعبے کے رابطوں اور ممکنہ تجارتی و سرمایہ کاری مواقع کو آگے بڑھانا بھی ہے۔

جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں ممالک حالیہ برسوں میں تجارت کے تنوع، سرمایہ کاری اور کاروباری اداروں کے براہ راست روابط بڑھانے پر زور دیتے رہے ہیں۔ پاکستانی ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، ادویات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کو دوطرفہ تعاون کے ممکنہ شعبوں کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

اقتصادی روابط کے ساتھ پاکستان اور جرمنی ترقیاتی تعاون بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رواں سال دونوں ممالک نے تکنیکی تعاون کے تحت نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے معاہدے کیے، جن میں موسمیاتی تبدیلی، توانائی کی منتقلی اور سماجی کمزوری سے متعلق شعبے شامل ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد پاکستان میں طویل مدتی ترقیاتی صلاحیت اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔

صدر کے دورے سے متعلق دفتر خارجہ نے کسی نئے تجارتی معاہدے یا سرمایہ کاری پیکیج کی پیشگی تصدیق نہیں کی۔ اس لیے دورے کے ممکنہ نتائج کا تعین ملاقاتوں اور بعد میں جاری ہونے والے مشترکہ یا سرکاری اعلانات سے ہوگا۔ فی الحال سرکاری طور پر تصدیق شدہ ایجنڈا دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور تجارت کے فروغ پر مرکوز ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان یورپی منڈیوں کے ساتھ برآمدات، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جرمنی کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے ان اہداف کے لیے سفارتی اور کاروباری سطح پر نئے مواقع تلاش کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔