برلن: صدر آصف علی زرداری جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائن مائر کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے کے لیے جرمنی پہنچ گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق 22 سے 24 اکتوبر تک جاری رہنے والے اس دورے میں دوطرفہ سیاسی روابط کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر توجہ دی جائے گی۔

صدر زرداری کے ہمراہ خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری بھی جرمنی گئی ہیں۔ برلن پہنچنے پر پاکستانی سفیر ثقلین سیدہ اور جرمن وزارت خارجہ کے حکام نے ان کا استقبال کیا۔ دفتر خارجہ نے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور کثیرالجہتی تعلقات کی عکاسی قرار دیا ہے۔

دورے کا ایک اہم پہلو پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ہونے والی تقریبات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی روابط 1951 میں قائم ہوئے تھے۔ اس عرصے میں تجارت، ترقیاتی تعاون، تعلیم، توانائی، موسمیاتی امور اور پیشہ ورانہ روابط سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری بڑھی ہے۔

صدر زرداری کی جرمن ہم منصب فرینک والٹر اسٹائن مائر سے ملاقات طے ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں تجارت اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی معاملات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ملاقات کے نتائج اور کسی نئے معاہدے کی تفصیلات سرکاری مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ پاکستان یورپی منڈی تک رسائی اور صنعتی تعاون کو اپنی برآمدی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح جرمن ادارے پاکستان میں ترقیاتی اور تکنیکی منصوبوں میں طویل عرصے سے شریک رہے ہیں۔

موجودہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان یورپی ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری بیان میں کسی مخصوص سرمایہ کاری رقم یا تجارتی معاہدے کی پیشگی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے دورے کی عملی اقتصادی پیش رفت کا اندازہ ملاقاتوں اور بعد کے مشترکہ یا سرکاری اعلانات سے ہوگا۔