کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے کاروباری سیشن کے دوران نمایاں بحالی دیکھی گئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,593 پوائنٹس، یعنی 1.56 فیصد، اضافے کے بعد 168,460 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ نے 165,652 سے 168,626 پوائنٹس کے درمیان کاروبار کیا اور حالیہ گراوٹ کے بعد نسبتاً کم قیمتوں پر خریداری نے انڈیکس کو سہارا دیا۔

مارکیٹ میں بہتری ایسے وقت سامنے آئی جب پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری جائزہ مذاکرات کے مثبت اختتام کی توقعات سرمایہ کاروں کے رجحان پر اثرانداز ہو رہی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق میڈیا میں یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مذاکرات اسی ہفتے مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں، جس کے بعد توسیعی فنڈ سہولت اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ یہ ابھی مذاکراتی عمل سے وابستہ توقع ہے، حتمی فنڈ اجرا نہیں۔

بینکنگ، تیل و گیس کی تلاش، سیمنٹ، آٹوموبائل، آئل مارکیٹنگ، ریفائنری اور بجلی کے شعبوں میں خریداری ریکارڈ کی گئی۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کے اعداد کے مطابق بڑی کمپنیوں نے انڈیکس کی بحالی میں نمایاں حصہ ڈالا۔ کاروباری حجم 2.36 فیصد بڑھ کر 432.01 ملین حصص رہا جبکہ لین دین کی مجموعی مالیت 28.19 فیصد اضافے سے 20.1 ارب روپے تک پہنچی۔

عالمی خام تیل کی قیمت میں نسبتاً نرمی نے بھی مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔ رپورٹ میں برینٹ خام تیل تقریباً 98.32 ڈالر فی بیرل بتایا گیا، جو دن کے دوران قریب دو فیصد کم تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں، مشرق وسطیٰ میں رسد کی صورتحال، غیر ملکی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی خریداری پر آنے والے سیشنز میں نظر رہے گی۔ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا امکان بدستور موجود ہے، اس لیے ایک روز کی تیزی کو مستقل رجحان قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔